نماز

by Other Authors

Page 20 of 61

نماز — Page 20

معاف ہو جاتی ہیں البتہ نوافل پڑھے جاسکتے ہیں۔جنازہ کسی کا آخری وقت آجائے تو اسکے پاس سورۃ لیس اور قدرے بلند آواز سے کلمہ طیبہ اور کلمہ شہادت پڑھنا چاہئے۔وفات پر انَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ کہا جائے۔فوت ہو نیوالے کی آنکھیں ہاتھ سے بند کر دینی چاہئیں اور سر کو باندھ دیں تا منہ کھلا نہ رہے۔جزع وفزع کی بجائے صبر وحوصلہ سے کفن کا انتظام کرنا چاہئے۔غسل و کفن نیم گرم پانی سے غسل دیں۔پہلے وہ اعضاء دھوئیں جو وضو میں دھوئے جاتے ہیں پھر بدن کے دائیں اور بائیں حصہ پر پانی ڈال کر دھوئیں۔تین بار بدن پر پانی ڈالا جائے غسل کے بعد کم قیمت سادہ اور سفید کپڑے سے تیار کفن ڈالا جائے۔مرد کے تین کپڑے کرتہ، تہبند اور بڑی چادر ( لفافہ ) اور عورت کیلئے ان تین کپڑوں کے علاوہ سینہ بند اورسر بند بھی ہونے چاہئیں۔شہید کو غسل و کفن کی کوئی ضرورت نہیں۔جنازہ گاہ پہنچ کر حاضر لوگ جنازہ کیلئے صفیں بنا ئیں اور امام صفوں کے آگے درمیان میں کھڑا ہو اور میت اس کے سامنے ہو۔امام بآواز بلند تکبیر تحریمہ کہے۔مقتدی بھی آہستہ آواز میں کہیں۔اس کے بعد ثنا اور سورۃ فاتحہ آہستہ آواز میں پڑھی جائے اور بغیر ہاتھ اُٹھائے دوسری تکبیر درود شریف پڑھ کر تیسری اور مسنون دُعائیں پڑھ کر چوتھی تکبیر کہے اور دائیں بائیں بلند آواز سے کہے السلام علیکم ورحمتہ اللہ۔جنازہ فرض کفایہ ہے یعنی کچھ پڑھ لیں تو سارے سبکدوش اگر کوئی بھی نہ پڑھے تو سب گناہ گار ہوں گے۔(20)