نماز عبادت کا مغز ہے — Page 93
93 93 اقامت صلوة باب XII متقی کی شان میں آیا ہے ، وَيُقِيمُونَ الصَّلوة (البقرة:4) یعنی وہ نماز کو کھڑی کرتا ہے یہاں لفظ کھڑی کرنے کا آیا ہے۔یہ بھی اس تکلف کی طرف اشارہ کرتا ہے۔جو متقی کا خاصہ ہے۔یعنی جب وہ نماز شروع کرتا ہے تو طرح طرح کے وساوس کا اُسے مقابلہ ہوتا ہے۔جن کے باعث اس کی نماز گویا بار بار گری پڑتی ہے۔جس کو اُس نے کھڑا کرنا ہے۔جب اُس نے اللہ اکبر کہا تو ایک ہجوم وساوس ہے جو اُس کے حضور قلب میں تفرقہ ڈال رہا ہے۔وہ اُن سے کہیں کا کہیں پہنچ جاتا ہے۔پریشان ہوتا ہے۔ہر چند حضور و ذوق کیلئے لڑتا مرتا ہے، لیکن نماز جو گری پڑتی ہے۔بڑی جان کنی سے اُسے کھڑا کرنے کی فکر میں ہے۔بار بار انساك نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ کہہ کر نماز کے قائم کرنیکے لیے دُعا مانگتا ہے اور ایسے الصراط المستقیم کی ہدایت چاہتا ہے جس سے اُس کی نماز کھڑی ہو جائے۔ان وساوس