نماز عبادت کا مغز ہے

by Other Authors

Page 94 of 274

نماز عبادت کا مغز ہے — Page 94

94 کے مقابل میں منتقی ایک بچہ کی طرح ہے جو خدا کے آگے گڑ گڑاتا ہے، روتا ہے اور کہتا ہے کہ میں اَخْلَدَالِيَ الْأَرْضِ (الاعراف : 177) ہورہا ہوں سو یہی وہ جنگ ہے جو متقی کو نماز میں نفس کے ساتھ کرنی ہوتی ہے اور اسی پر ثواب مترتب ہوگا۔بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں جو نماز میں وساوس کو فی الفور رنا چاہتے ہیں ، حالانکہ ویقیمون الصلواۃ کی منشاء کچھ اور ہے۔کیا خدا نہیں جانتا؟ حضرت شیخ عبدالقادر گیلانی (رحمۃ اللہ علیہ ) کا قول ہے کہ ثواب اسوقت تک ہے جب تک مجاہدات ہیں اور جب مجاہدات ختم ہوئے، تو ثواب ساقط ہو جاتا ہے۔گویا صوم و صلوۃ اس وقت تک اعمال ہیں جب تک ایک جدوجہد سے وساوس کا مقابلہ ہے، لیکن جب اُن میں ایک اعلیٰ درجہ پیدا ہو گیا اور صاحب صوم وصلوٰۃ تقویٰ کے تکلف سے بیچ کر صلاحیت سے رنگین ہو گیا، تو اب صوم وصلوٰۃ اعمال نہیں رہے۔اس موقع پر انہوں نے سوال کیا کہ کیا اب نماز معاف ہو جاتی ہے؟ کیونکہ ثواب تو اس وقت تھا جس وقت تک تکلف کرنا پڑتا تھا۔سو بات یہ ہے کہ نماز اب عمل نہیں بلکہ ایک انعام ہے۔یہ نماز اس کی ایک غذا ہے، جو اس کے لیے قرۃ العین ہے۔یہ گویا نقد بہشت ہے۔(ملفوظات جلد اول ص 18 تا 19)