نماز عبادت کا مغز ہے

by Other Authors

Page 43 of 274

نماز عبادت کا مغز ہے — Page 43

43 پڑھا کرتے تھے۔اور ایسی نماز سے انھوں نے بڑے بڑے روحانی فائدے اور بڑے بڑے مدارج حاصل کیے تھے۔فرق صرف حضور اور خلوص کا ہی ہے۔اگر تم میں بھی وہی اخلاص صدق و وفا اور استقلال ہو تو اسی نماز سے اب بھی وہی مدارج حاصل کر سکتے ہو جو تم سے پہلوں نے حاصل کیے تھے چاہئے کہ خدا کی راہ میں دُکھ اُٹھانے کے لیے ہر وقت تیار رہو۔یاد رکھو جب اخلاص اور صدق سے کوشش نہیں کرو گے کچھ نہیں بنے گا بہت آدمی ایسے بھی ہوتے ہیں کہ یہاں سے تو بیعت کر جاتے ہیں مگر گھر میں جا کر جب تھوڑی سی بھی تکلیف آئی اور کسی نے دھمکایا تو جھٹ مرتد ہو گئے۔نماز کو سنوار کر ادا کرو ( تفسير سورة البقرة ،ص 46) نماز کو ایسے ادا نہ کرو جیسے مرغی دانے کے لیے ٹھونگ مارتی ہے بلکہ سوز و گداز سے ادا کرو اور دُعائیں بہت کیا کرو۔نماز مشکلات کی کنجی ہے۔ماثورہ دعاؤں اور کلمات کے ہوا اپنی مادری زبان میں بھی بہت دُعا کیا کرو تا اس سے سوز و گداز کی تحریک ہو اور جب تک سوز و گداز نہ ہو اُسے ترک مت کرو۔کیونکہ اس سے تزکیہ نفس ہوتا ہے اور سب کچھ ملتا