نماز عبادت کا مغز ہے — Page 44
44 ہے۔چاہیے کہ نماز کی جس قدر جسمانی صورتیں ہیں ان سب کے ساتھ دل بھی ویسے ہی تابع ہو۔اگر جسمانی طور پر کھڑے ہو تو دل بھی خدا کی اطاعت کے لیے ویسے ہی کھڑا ہو۔اگر جھکو تو دل بھی ویسے ہی جھکے۔اگر سجدہ کرو تو دل بھی ویسے ہی سجدہ کرے۔دل کا سجدہ یہ ہے کہ کسی حالت میں خدا کو نہ چھوڑے۔جب یہ حالت ہوگی تو گناہ دور ہونے شروع ہو جاویں گے۔معرفت بھی ایک شئے ہے جو کہ گناہ سے انسان کو روکتی ہے۔جیسے جو شخص سم الفار ، سانپ اور شیر کو ہلاک کرنے والا جانتا ہے تو وہ ان کے نزدیک نہیں جاتا۔ایسے جب تم کو معرفت ہوگی تو تم گناہ کے نزدیک نہ پھنکو گے۔اس کے لیے ضروری ہے کہ یقین بڑھاؤ۔اور وہ دُعا سے بڑھے گا اور نماز خود دُعا ہے۔نماز کو جس قدر سنوار کر ادا کرو گے اسی قدر گناہوں سے رہائی پاتے جاؤ گے۔معرفت صرف قول سے حاصل نہیں ہوسکتی بڑے بڑے حکیموں نے خدا کو اس لیے چھوڑ دیا کہ ان کی نظر مصنوعات پر رہی اور دُعا کیطرف توجہ نہ کی۔جیسا کہ ہم نے براہین میں ذکر کیا ہے۔مصنوعات سے تو انسان کو ایک صانع کے وجود کی ضرورت ثابت ہوتی ہے کہ ایک فاعل ہونا چاہیے لیکن یہ نہیں ثابت ہوتا کہ وہ ہے بھی۔