نماز عبادت کا مغز ہے — Page 78
78 قرب حاصل کرتا ہے۔نوافل سے مُراد یہ ہے کہ خدمت مقرر کردہ میں زیادتی کی جاوے ہر ایک خیر کے کام میں دُنیا کا بندہ تھوڑا سا کر کے سُست ہو جاتا ہے۔لیکن مومن زیادتی کرتا ہے۔نوافل صرف نماز سے ہی مختص نہیں بلکہ ہر ایک حسنات میں زیادتی کرنا نوافل ادا کرنا ہے۔مومن محض خدا تعالیٰ کی خوشنودی کیلئے اُن نوافل کی فکر میں لگا رہتا ہے۔کہ اس کے دل میں ایک درد ہے جو اسے بے چین کرتا ہے اور وہ دن بدن نوافل و حسنات میں ترقی کرتا جاتا ہے اور بالمقابل خدا تعالی بھی اس کے قریب ہوتا جاتا ہے۔حتی کہ مومن اپنی ذات کو فنا کر کے خدا تعالیٰ کے سایہ تلے آجاتا ہے۔اس کی آنکھ خدا تعالیٰ کی آنکھ۔اس کے کان خدا تعالیٰ کے کان ہو جاتے ہیں۔کیونکہ وہ کسی معاملہ میں خدا تعالیٰ کی مخالفت نہیں کرتا۔ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ اس کی زبان خدا تعالیٰ کی زبان اور اس کا ہاتھ خدا کا ہاتھ ہو جاتا ہے۔خوش قسمت بننے کا طریق نماز ( ملفوظات جلد چہارم ص 30) خوش قسمت وہ شخص نہیں ہے جس کو دنیا کی دولت ملے اور وہ اس دولت کے ذریعہ ہزاروں آفتوں اور مصیبتوں کا مورد بن جائے بلکہ خوش قسمت وہ ہے جس کو ایمان کی دولت ملے۔