نماز عبادت کا مغز ہے

by Other Authors

Page 52 of 274

نماز عبادت کا مغز ہے — Page 52

52 جرم لکھی جاتی ہے اور مخالفانہ گواہ تمہاری ہلاکت کے لیے گذر جاتے ہیں۔یہ وہ وقت ہے کہ جب تمہارے حواس خطا ہو جاتے ہیں اور تم اپنے تئیں ایک قیدی سمجھنے لگتے ہو۔سو یہ حالت اس وقت سے مشابہ ہے جبکہ آفتاب غروب ہو جاتا اور تمام اُمیدیں دن کی روشنی کی ختم ہو جاتی ہیں۔اس روحانی حالت کے مقابل پر نماز مغرب مقرر ہے۔م چوتھا تغییر اس وقت تم پر آتا ہے کہ جب بکا تم پر وارد ہی ہو جاتی ہے اور اُس کی سخت تاریکی تم پر احاطہ کر لیتی ہے مثلاً جبکہ فرد قرارداد جرم اور شہادتوں کے بعد حکم سزا تم کو سنا دیا جاتا ہے اور قید کے لیے ایک پولیس مین کے تم حوالہ کیے جاتے ہو۔سو یہ حالت اسوقت سے مشابہ ہے جبکہ رات پڑ جاتی ہے اور ایک سخت اندھیرا پڑ جاتا ہے۔اس روحانی حالت کے مقابل پر نماز عشاء مقرر ہے۔۵ پھر جبکہ تم ایک مدت تک اس مصیبت کی تاریکی میں بسر کرتے ہو تو پھر آخر خدا کا رحم تم پر جوش مارتا ہے اور تمہیں اس تاریکی سے نجات دیتا ہے مثلاً جیسے تاریکی کے بعد پھر آخر کار صبح نکلتی ہے اور پھر وہی روشنی دن کی اپنی چمک کے ساتھ ظاہر ہو جاتی ہے۔سو اس روحانی حالت کے مقابل پر نماز فجر