نماز عبادت کا مغز ہے

by Other Authors

Page 206 of 274

نماز عبادت کا مغز ہے — Page 206

206 خدا تعالیٰ کے کلام کو اسی کی زبان میں پڑھنا چاہیے اس میں بھی ایک برکت ہوتی ہے خواہ فہم ہو یا نہ ہو اور ادعیہ ماثورہ بھی ویسے ہی پڑھے جیسے آنحضرت ﷺ کی زبان مبارک سے نکلیں۔یہ ایک محبت اور تعظیم کی نشانی ہے۔باقی خواہ ساری رات دُعا اپنی زبان میں کرتا رہے۔انسان کو اوّل محسوس کرنا چاہیے کہ میں کیسا مصیبت زدہ ہوں۔اور میرے اندر کیا کیا کمزوریاں ہیں۔کیسے کیسے امراض کا نشانہ ہوں اور موت کا اعتبار نہیں ہے۔بعض ایسی بیماریاں ہیں کہ آدھ منٹ میں ہی انسان کی جان نکل جاتی ہے سوائے خدا کے کہیں اس کی پناہ نہیں ہے ایک آنکھ ہی ہے جس کی تین سو امراض ہیں۔ان خیالوں سے نفسانی زندگی کی اصلاح ہو سکتی ہے۔اور پھر ایسی اصلاح یافتہ زندگی کی مثال یہ ہے کہ جیسے ایک دریا سخت طغیانی پر ہے۔مگر یہ ایک عمدہ مضبوط لوہے کے جہاز میں بیٹھا ہوا اور ہوائے موافق اسے لے جارہی ہے کوئی خطرہ ڈوبنے کا نہیں۔لیکن جو شخص یہ زندگی نہیں رکھتا اس کا جہاز بودا ہے ضرور ہے کہ طغیانی میں ڈوب جاوے۔عام لوگوں کی نماز تو برائے نام ہوتی ہے صرف نماز کو الہر تے ہیں اور جب نماز پڑھ چکے تو پھر گھنٹوں تک دُعا میں رجوع کرتے ہیں۔ہے ( ملفوظات جلد دوم،ص656)