نماز عبادت کا مغز ہے — Page 205
205 خاص بندوں سے ہمکلام ہوتا ہے۔اگر ایسا نہ ہوتا تو رفتہ رفتہ بالکل یہ بات نابود ہو جاتی کہ اس کی ہستی ہے بھی۔پس خدا کی ہستی کے ثبوت کا سب سے زبردست ذریعہ یہی ہے کہ ہم اس کی آواز کوسن لیں یاد یدار یا گفتار۔پس آجکل کا گفتار قائمقام ہے دیدار کا۔ہاں جب تک خدا کے اور اس سائل کے درمیان کوئی حجاب ہے اس وقت تک ہم سُن نہیں سکتے۔جب درمیانی پردہ اُٹھ جاوے گا تو اس کی آواز سنائی دے گی۔بعض لوگ کہہ دیتے ہیں کہ تیرہ سو برس سے خدا کا مکالمہ مخاطبہ بند ہو گیا ہے۔اس کا اصل مطلب یہ ہے کہ اندھا سب کو ہی اندھا سمجھتا ہے کیونکہ اس کی اپنی آنکھوں میں جو ٹور موجود نہیں۔اگر اسلام میں یہ شرف بذریعہ دعاؤں اور اخلاص کے نہ ہوتا تو پھر اسلام کچھ چیز بھی نہ ہوتا اور یہ بھی اور مذاہب کی طرح مُردہ مذہب ہو جاتا۔( ملفوظات جلد چہارم ص 175 تا 176) مادری زبان میں نماز اور دُعائیں پھر سوال ہوا کہ اگر ساری نماز کو اپنی زبان میں پڑھ لیا جاوے تو کیا حرج ہے۔فرمایا: