نماز عبادت کا مغز ہے — Page 138
138 عبادت ٹیکس نہیں ہے خوب سمجھ لو کہ عبادت بھی کوئی بوجھ اور ٹیکس نہیں اس میں بھی ایک لذت اور سرور ہے اور یہ لذت اور سرور دنیا کی تمام لذتوں اور تمام حظوظ نفس سے بالا تر اور بالاتر ہے جیسے عورت اور مرد کے باہم تعلقات میں ایک لذت ہے اور اس سے وہی بہرہ مند ہو سکتا جو مرد ہے اور اپنے قومی صحیحہ رکھتا ہے۔ایک نامرد اور مخنث وہ حظ نہیں پاسکتا اور جیسے ایک مریض کسی عمدہ سے عمدہ خوش ذائقہ غذا کی لذت سے محروم ہے اسی طرح پر ہاں ٹھیک ایسا ہی وہ کم بخت انسان ہے جو عبادت الہی سے لذت نہیں پاسکتا۔۔( ملفوظات جلد سوم ص 26) نماز کا مغز دُعا ہے۔۔۔پھر نماز پڑھتے وقت ان مفاد کا حاصل کرنا بھی ملحوظ ہو جو اُس سے ہوتے ہیں اور احسان پیشِ نظر رہے۔إِنَّ الْحَسَنَتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّاتِ (ھود : 115) نیکیاں بدیوں کو زائل کر دیتی ہیں۔پس ان حسنات کو اور لذات کو دل میں رکھ کر دُعا کرے کہ وہ نماز جو صدیقوں اور محسنوں کی ہے وہ نصیب