نماز عبادت کا مغز ہے

by Other Authors

Page 137 of 274

نماز عبادت کا مغز ہے — Page 137

137۔کرنا چاہیے۔کیونکہ جیسا میں نے ابھی کہا ہے دنیا میں کوئی ایسی چیز نہیں ہے جسمیں خدائے تعالیٰ نے کوئی نہ کوئی لذت نہ رکھی ہو۔اللہ تعالیٰ نے بنی نوع انسان کو عبادت کیلئے پیدا کیا تو پھر کیا وجہ ہے کہ اس کی عبادت میں اس کے لیے ایک لذت اور سُرور نہ ہو؟ لذت اور سُرور تو ہے مگر اس سے حظ اٹھانے والا بھی تو ہو۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ (الدريت : 57) اب انسان جب عبادت ہی کیلئے پیدا ہوا ہے ، ضروری ہے کہ عبادت میں لذت اور سرور بھی درجہ غایت کا رکھتا ہو۔اس بات کو ہم اپنے روز مرہ کے مشاہدہ اور تجربہ سے خوب سمجھ سکتے ہیں مثلاً دیکھو اناج اور تمام خوردنی اور نوشیدنی اشیاء انسان کے لیے پیدا کی ہیں تو کیا اُن سے وہ ایک لذت اور حظ نہیں پاتا ہے؟ کیا اُس ذائقہ اور مزے کے احساس کے لیے اس کے منہ میں زبان موجود نہیں؟ کیا وہ خوبصورت اشیاء کو دیکھ کر نباتات ہوں یا جمادات، حیوانات ہوں یا انسان حظ نہیں پاتا؟ کیا دل خوش گن اور سریلی آوازوں سے اس کے کان محظوظ نہیں ہوتے؟ پھر کیا کوئی دلیل اور بھی اس امر کے اثبات کے لیے مطلوب ہے کہ عبادت میں لذت نہ ہو۔( ملفوظات جلد سوم ، ص 25)