نماز عبادت کا مغز ہے — Page 139
کرے 139 یہ جو فرمایا ہے کہ إِن الحَسَنتِ يُذْهِبْنَ السَّبات يعنى نیکیاں بدیوں کو دور کرتی ہے یا دوسرے مقام پر فرمایا ہے نماز فواحش اور بُرائیوں سے بچاتی ہے اور ہم دیکھتے ہیں کہ باوجود نماز پڑھنے کے پھر بدیاں کرتے ہیں۔اس کا جواب یہ ہے کہ وہ نماز پڑھتے ہیں مگر نہ روح اور راستی کے ساتھ۔وہ صرف رسم اور عادت کے طور پر ٹکریں مارتے ہیں ان کی روح مُردہ ہے۔اللہ تعالیٰ نے ان کا نام حسنات نہیں رکھا اور یہاں جو حسنات کا لفظ رکھا اور الصلوۃ کا لفظ نہیں رکھا باوجود یکہ معنی وہی ہیں۔اسکی وجہ یہ ہے کہ تا نماز کی خوبی اور حسن و جمال کی طرف اشارہ کرے کہ وہ نماز بدیوں کو دور کرتی ہے جو اپنے اندر ایک سچائی کی رُوح رکھتی ہے اور فیض کی تاثیر اس میں موجود ہے وہ نماز یقیناً یقیناً بُرائیوں کو دور کر دیتی ہے۔نماز نشست و برخاست کا نام نہیں۔نماز کا مغز اور رُوح وہ دُعا ہے جو ایک لذت اور سرور اپنے اندر رکھتی ہے۔( ملفوظات جلد سوم ،ص 28، 29 ) غرض ظنون فاسدہ والا انسان ناقص الخلقت ہوتا ہے چونکہ اس کے پاس صرف رسمی امور ہوتے ہیں اس لیے نہ