نماز عبادت کا مغز ہے — Page 121
121 میں کوئی کسر باقی نہ رہے۔یہ بہت تنگ دروازہ ہے۔اور یہ شربت بہت ہی تلخ شربت ہے۔تھوڑے لوگ ہیں جو اس دروازہ سے داخل ہوتے ہیں اور اس شربت کو پیتے ہیں۔زنا سے بچنا کوئی بڑی بات نہیں اور کسی کو ناحق قتل نہ کرنا بڑا کام نہیں۔اور جھوٹی گواہی نہ دینا کوئی بڑا ہنٹر نہیں مگر ہر ایک چیز پر خدا کو اختیار کر لینا اور اس کے لیے سچی محبت اور نیچے جوش سے دنیا کی تمام تلخیوں کو اختیار کرنا بلکہ اپنے ہاتھ سے تلخیاں پیدا کر لینا یہ وہ مرتبہ ہے کہ بجز صدیقوں کے کسی کو حاصل نہیں ہو سکتا۔یہی وہ عبادت ہے جس کے ادا کرنے کے لیے انسان مامور ہے۔اور جو شخص یہ عبادت بجا لاتا ہے تب تو اُس کے اس فعل پر خدا کی طرف سے بھی ایک فعل مترتب ہوتا ہے۔جس کا نام انعام ہے۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے یعنی یہ دعا سکھلاتا ہے اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ لا صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ یعنی اے ہمارے خدا ہمیں اپنی سیدھی راہ دکھلا اُن لوگوں کی راہ جن پر تو نے انعام کیا ہے اور اپنی خاص عنایات سے مخصوص فرمایا ہے۔حضرت احدیت میں یہ قاعدہ ہے کہ جب خدمت مقبول ہو جاتی ہے تو اُس پر ضرور کوئی انعام مترتب ہوتا ہے۔چنانچہ خوارق اور نشان جن کی