نماز عبادت کا مغز ہے — Page 120
120 ہستی کے آگے مردہ متصور ہو اور ہر ایک خوف اُسی کی ذات سے وابستہ ہو اور اُسی کی درد میں لذت ہو اور اُسی کی خلوت میں راحت ہو اور اس کے بغیر دل کو کسی کے ساتھ قرار نہ ہو۔اگر ایسی حالت ہو جائے تو اسکا نام پرستش ہے مگر یہ حالت بجز خدا تعالی کی خاص مدد کے کیونکر پیدا ہو۔اسی لیے خدا تعالی نے یہ دعا سکھلائی إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِین یعنی ہم تیری پرستش تو کرتے ہیں مگر کہاں حق پرستش ادا کر سکتے ہیں جب تک تیری طرف سے خاص مدد نہ ہو۔خدا کو اپنا حقیقی محبوب قرار دے کر اس کی پرستش کرنا یہی ولایت ہے۔جس سے آگے کوئی درجہ نہیں۔مگر یہ درجہ بغیر اس کی مدد کے حاصل نہیں ہو سکتا۔اس کے حاصل ہونے کی یہ نشانی ہے کہ خدا کی عظمت دل میں بیٹھ جائے۔خدا کی محبت دل میں بیٹھ جائے اور دل اُسی پر توکل کرے اور اُسی کو پسند کرے اور ہر ایک چیز پر اُسی کو اختیار کرے اور اپنی زندگی کا مقصد اُس کی یاد کو سمجھے۔اور اگر ابراہیم کی طرح اپنے ہاتھ سے اپنی عزیز اولاد کے ذبح کرنے کا حکم ہو۔یا اپنے تئیں آگ میں ڈالنے کیلئے اشارہ ہو تو ایسے سخت احکام کو بھی محبت کے جوش سے بجالائے اور رضا جوئی اپنے آقائے کریم میں اس حد تک کوشش کرے کہ اُس کی اطاعت