نماز عبادت کا مغز ہے — Page 31
31 نمازیں ریا کاری سے بھری ہوئی ہوں ان نمازوں کا ہم کیا کریں اور اُن سے کیا فائدہ ؟ البدر میں ہے: اگر ان کی آرزوئیں اور مرادیں پوری ہوتی رہیں تو وہ خدا کو مانتے رہیں گے اور اگر پوری نہ ہوں تو پھر اس سے ناراض اور شکایت کا دفتر کھلا ہوا ہے تو جن کی یہ حالت ہے اور ان میں صدق وصفا نہیں ہے خدا ان کی نمازوں کا کیا کرے وہ خدا تعالیٰ کے نزدیک ہرگز نمازی نہیں ہیں اور ان کی نمازیں سوائے اس کے کہ زمین پر ٹکریں ماریں اور کچھ حکم نہیں رکھتیں“ ( ملفوظات جلد سوم، ص 501) البدر حاشیہ جلد 3 ، ص 3 مئورخہ 16 جنوری 1904ء) نماز اس وقت حقیقی نماز کہلاتی ہے جبکہ اللہ تعالیٰ سے سچا اور پاک تعلق ہو اور اللہ تعالیٰ کی رضا اور اطاعت میں اس حد تک فنا ہو اور یہاں تک دین کو دنیا پر مقدم کرے کہ خدا تعالیٰ کی راہ میں جان تک دے دینے اور مرنے کے لیے تیار ہو جائے۔جب یہ حالت انسان میں پیدا ہو جائے اسوقت کہا جائیگا کہ اس کی نماز نماز ہے۔مگر جب تک یہ حقیقت انسان کے اندر پیدا