نماز عبادت کا مغز ہے — Page 32
32 نہیں ہوتی اور سچے اخلاص اور وفاداری کا نمونہ نہیں دکھلاتا اسوقت تک اس کی نمازیں اور دوسرے اعمال بے اثر ہیں۔( تفسير سورة البقرة ،ص49) ( ملفوظات جلد سوم، ص 501) ستچی نماز اس مقام پر انسان کی رُوح جب ہمہ نیستی ہو جاتی ہے تو وہ خدا کی طرف ایک چشمہ کی طرح بہتی ہے۔اور ماسوی اللہ سے اُسے انقطاع تام ہو جاتا ہے۔اُس وقت خدائے تعالیٰ کی محبت اس پر گرتی ہے۔اس اتصال کے وقت ان دو جوشوں سے جو اوپر کی طرف سے ربوبیت کا جوش اور نیچے کی طرف سے عبودیت کا جوش ہوتا ہے۔ایک خاص کیفیت پیدا ہوتی ہے اس کا نام صلوۃ ہے پس یہی وہ صلوۃ ہے جو سیئات کو بھسم کر جاتی ہے اور اپنی جگہ ایک نور اور چمک چھوڑ دیتی ہے جو سالک کو راستہ کے خطرات اور مشکلات کے وقت ایک منور شمع کا کام دیتی ہے اور ہر قسم کے خس و خاشاک اور ٹھوکر کے پتھروں اور خارونس سے جو اس کی راہ میں ہوتی ہیں، آگاہ کر کے بچاتی ہے اور یہی وہ حالت ہے جبکہ انَّ الصَّلوةَ تَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ