نماز عبادت کا مغز ہے — Page 28
28 دُکھ اُٹھاتا ہوں۔مشکل والوں کی مشکل حل کرتا ہوں۔میں بہت رحم کرتا ہوں۔بے کسوں کی مدد کرتا ہوں۔لیکن ایک شخص جو کہ مشکل میں مبتلا ہے اس کے پاس سے گذرتا ہے اور اسکی ندا کی پرواہ نہیں کرتا نہ اپنی مشکل کا بیان کر کے طلب امداد کرتا ہے تو سوائے اس کے کہ وہ تباہ ہو اور کیا ہوگا۔یہی حال خدا تعالی کا ہے کہ وہ تو ہر وقت انسان کو آرام دینے کے لیے تیار ہے۔بشرطیکہ کوئی اس سے درخواست کرے، قبولیت دُعا کے لیے ضروری ہے کہ نافرمانی سے باز رہے اور دُعا بڑے زور سے کرے۔کیونکہ پتھر پر پتھر زور سے پڑتا ہے تب آگ پیدا ہوتی ہے۔( ملفوظات جلد چہارم ، ص 54)