نماز عبادت کا مغز ہے — Page 27
27 پر جو نماز کی ترمیم کرنا چاہتے ہیں اور رکوع اور سجود پر اعتراض کرتے ہیں۔یہ تو کمال درجہ کی خوبی کی باتیں ہیں۔اصل بات یہ ہے کہ جب انسان اس عالم سے حصّہ نہ لے جس سے نماز اپنی حد تک پہنچتی ہے تب تک انسان کے ہاتھ میں کچھ نہیں مگر جس شخص کا یقین خدا پر نہیں وہ نماز پر کسطرح یقین کر سکتا ہے۔نماز ایسی چیز ہے جو جامع حسنات ہے اور وافع سیئات ہے۔میں نے پہلے بھی کئی مرتبہ بیان کیا ہے کہ نماز کے جو پانچ وقت مقرر کیے ہیں اس میں ایک حقیقت اور حکمت ہے۔نماز اس لیے ہے کہ جس عذاب شدید میں پڑنے والا مبتلا ہے وہ اس سے نجات پالیوے۔نماز اصل میں دُعا ہے ( ملفوظات جلد پنجم ص 92 تا 94) نماز اصل میں دُعا ہے۔نماز کا ایک ایک لفظ جو بولتا ہے وہ نشانہ دُعا کا ہوتا ہے۔اگر نماز میں دل نہ لگے تو پھر عذاب کے لیے تیار رہے، کیونکہ جو شخص دُعا نہیں کرتا وہ سوائے اس کے کہ ہلاکت کے نزدیک خود جاتا ہے اور کیا ہے۔ایک حاکم ہے جو بار بار اس امر کی بدا کرتا ہے کہ میں دُکھیاروں کا