نماز عبادت کا مغز ہے — Page 141
141 اُلوہیت اور عبودیت میں اسی قسم کا ایک تعلق ہے جس کو ہر شخص سمجھ نہیں سکتا۔جب انسان اللہ تعالیٰ کے دروازہ پر گر پڑتا ہے اور نہایت عاجزی اور خشوع و خضوع کے ساتھ اس کے حضور اپنے حالات کو پیش کرتا ہے اور اس سے اپنی حاجات کو مانگتا ہے تو اُلوہیت کا کرم جوش میں آتا ہے اور ایسے شخص پر رحم کیا جاتا ہے۔( ملفوظات جلد اوّل ، ص 234) نماز میں تسبیح و تقدیس کرتے ہوئے یہی حالت ظاہر ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ترغیب دی ہے کہ طبعا جوش کے ساتھ اپنے کاموں سے اور اپنی کوششوں سے دکھادے کہ اس کی عظمت کے بر خلاف کوئی شے مجھ پر غالب نہیں آسکتی۔یہ بڑی عبادت ہے جو لوگ اس کی مرضی کے مطابق جوش رکھتے ہیں ، وہی مئوید کہلاتے ہیں اور وہی برکتیں پاتے ہیں۔جو لوگ خدا تعالیٰ کی عظمت اور جلال اور تقدیس کے لئے جوش نہیں رکھتے ان کی نمازیں جھوٹی ہیں اور ان کے سجدے بیکار ہیں۔جب تک خدا تعالیٰ کے لئے جوش نہ ہو یہ سجدے صرف جنتر منتر ٹھہریں گے جن کے ذریعہ سے یہ بہشت کو لینا چاہتا ہے۔یاد رکھو کوئی