نماز عبادت کا مغز ہے

by Other Authors

Page 142 of 274

نماز عبادت کا مغز ہے — Page 142

142 جسمانی بات جس کے ساتھ کیفیت نہ ہو فائدہ مند نہیں ہوسکتی۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ کو قربانی کے گوشت نہیں پہنچتے ایسا ہی تمہارے رکوع اور سجود بھی نہیں پہنچتے جب تک ان کے ساتھ کیفیت نہ ہو۔اللہ تعالیٰ کیفیت کو چاہتا ہے اور ان لوگوں سے محبت کرتا ہے جو اس کی عزت اور عظمت کے لئے جوش رکھتے ہیں۔جو لوگ ایسا کرتے ہیں وہ ایک باریک راہ سے گزرتے ہیں اور کوئی دوسرا شخص ان کے ساتھ نہیں جا سکتا۔جب تک کیفیت نہ ہو انسان ترقی نہیں کر سکتا۔گویا خدا تعالیٰ نے قسم کھائی ہے کہ جب تک اُس کے لئے جوش نہ ہو کوئی لذت نہیں دے گا۔نماز میں وساؤس پیدا ہونے کی وجہ ( ملفوظات جلد اوّل، ص 262 جن لوگوں کو خدا کی طرف پورا التفات نہیں ہوتا انھیں کو نماز میں بہت وساوس آتے ہیں۔دیکھو ایک قیدی جبکہ ایک حاکم کے سامنے کھڑا ہوتا ہے تو کیا اس وقت اس کے دل میں کوئی وسوسہ گزر جاتا ہے۔ہرگز نہیں۔وہ ہمہ تن حاکم کی طرف متوجہ ہوتا ہے اور اس فکر میں ہوتا ہے کہ ابھی حاکم کیا حکم سناتا ہے۔اس وقت تو وہ اپنے وجود سے بھی بالکل بے خبر ہوتا ہے۔ایسا ہی جب صدقِ دل سے انسان خدا تعالیٰ کی طرف رجوع