نماز عبادت کا مغز ہے

by Other Authors

Page 140 of 274

نماز عبادت کا مغز ہے — Page 140

140 اس کا دین درست ہوتا ہے نہ دنیا ایسے لوگ نمازیں پڑھتے ہیں مگر نماز کے مطالب سے نا آشنا ہوتے ہیں اور ہرگز نہیں سمجھتے کہ کیا کر رہے ہیں۔نماز میں تو ٹھو نگے مارتے ہیں لیکن نماز کے بعد دُعا میں گھنٹہ گھنٹہ گزار دیتے ہیں۔تعجب کی بات ہے کہ نماز جو اصل دُعا کیلئے ہے اور جس کا مغز ہی دُعا ہے اس میں وہ کوئی دُعا نہیں کرتے۔نماز کے ارکان بجائے خود دُعا کیلئے محرک ہوتے ہیں۔حرکت میں برکت ہے۔کبھی ایسا ہوتا ہے کہ بیٹھے بیٹھے کوئی مضمون نہیں سوجھتا جب ذرا اُٹھ کر پھرنے لگتے ہیں تو مضمون سوجھ گیا۔اس طرح پر سب اعمال کا حال ہے۔اگر ان کی اصلیت کا لحاظ اور مغز کا خیال نہ ہو تو وہ ایک رسم اور عادت رہ جاتی ہے۔اسی طرح پر روزہ میں خدا کے واسطے نفس کو پاک رکھنا ضروری ہے لیکن اگر حقیقت نہ ہو تو پھر یہ رسم ہی رہ جاتی ہے۔( ملفوظات جلد دوم ،ص 393) جہ نماز کی اصلی فرض اور مغز دُعا ہی ہے۔اور دُعا مانگنا اللہ تعالیٰ کے قانونِ قدرت کے عین مطابق ہے۔مثلاً ہم عام طور پر دیکھتے ہیں کہ جب بچہ روتا دھوتا ہے اور اضطراب ظاہر کرتا ہے تو ماں کس قدر بیقرار ہو کر اس کو دودھ دیتی ہے۔