نبوّت و خلافت کے متعلق اہل پیغام اور جماعت احمدیہ کا موقف — Page 52
: ۵۲ افضلیت اور امتیاز کا باعث بیان کرنیکے لیے فرمایا تھا۔ابو بكر افضل هذِهِ الْأُمَّةِ إِلَّا إِن تَكُونَ نبى كنوز الحقائق للاستاذ السيد عبد الرؤن المناوی یعنی ابو بکر اس اُمت کے سب سے افضل فرد ہیں سوائے اس کے کوئی نبی پیدا ہو۔پھر وہ ساعت سعد آئی جب وہ پاک وجود قادیان کی مقدس بستی میں مبعوث ہوا ، جس کی بعثت اور نزول کے انتظار میں ہزار ہا صلحاء امت گزر گئے اور پھر اللہ تعالٰی نے اسے اپنے پاک مکالمہ و مخاطبہ میں نبی اور رسول کے ۸۳ مقام پر سرفراز فرمایا۔براہین احمدیہ - ۱۸۸۵ء میں طبع ہوئی۔اس میں الهامات درج ہیں : هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ إِلى ليظهرة على الدين كله ربا امین احمدیہ (۳۹) پھر اسی کتاب میں آپ کی نسبت یہ وحی اللہ ہے جو اللہ نے حلل الانبياء یعنی خدا کا رسول نبیوں کے محلوں میں براہین احمدیہ مکنده پھر اسی کتاب میں اس مکالمہ کے قریب ہی یہ وحی الہی ہے محمد رسول اللهِ وَالَّذِينَ مَعَةَ ادَّاء عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاء بَيْنَهُم - فرماتے ہیں اس وحی الٹی میں میرا نام محمد رکھا گیا اور رسول بھی۔حضور ر ایک غلطی کا ازالہ) ( اسی طرح اللہ تعالیٰ نے آپ کو الماما فرمایا - يَا نَبِيَّ اللهِ كُنتُ لا أَعْرِفُكَ یعنی زمین کے گی کہ اسے خدا کے نبی بائیں تجھے شناخت نہیں کرتی تھی۔(حقیقة الوحی ص ) اسی طرح اللہ تعالیٰ نے آپ کو الہام