نبوّت و خلافت کے متعلق اہل پیغام اور جماعت احمدیہ کا موقف — Page 53
۵۳ " ياَيُّهَا النَّبِيُّ أَطْعِمُوا الجَائِعَ وَالْمُعْتَرَ » میں نبی کہ کر خطاب کیا۔اور اسی طرح الهام : دنیا میں ایک نبی آیا پر دنیا نے اُس کو قبول نہ کیا " میں آپ کو نبی قرار دیا گیا۔پس متواتر ۲۳ سال تک اللہ تعالے نے اپنی وحی میں آپ کو نبی اور رسول اور مرسل کہہ کر خطاب فرمایا۔اور آخری دس سالوں میں تو پہلے زمانہ کی نسبت بہت تصریح اور توضیح سے یہ الفاظ موجود ہیں۔(۳) حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا موقف حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جب اللہ تعالیٰ سے مکالمہ و مخاطبہ کا شرف پایا ، اور خدا کے کلام میں جب بار بار حضور کو نبی، رسول اور مرسل کہ کر پکارا گیا ، تو اوائل میں مسلمانوں کے عام مشہور عقیدہ اور ایک ہزار سال سے مروجہ اصطلاحات اور نبوت کی تعریف کی بناء پر حضور نے ان الفاظ کو ظاہر پر محمول کرنے کی بجائے ان کی تاویل کرنے کا رجحان ظاہر فرمایا۔اور نبی ، رسول اور مرسل کے الہامی الفاظ کو معنی محدث قرار دیا۔کیونکہ اس وقت تک مسلمانوں میں نبوت کی تعریف (DEFINATION) کے ارکان ضرور یہ یہ تھے کہ نبی وہ ہوتا ہے جو کامل شریعت لائے یا سابقہ شریعت کے بعض احکام منسوخ کرے اور وہ کسی دوسرے سابق نبی کا امتی نہ ہو بلکہ مشکل ہے ملہ ایک غلطی کا ازالہ مت :