نبوّت و خلافت کے متعلق اہل پیغام اور جماعت احمدیہ کا موقف — Page 47
۴۷ تضاد عیاں ہے۔ایک طرفت تو وہ صدر انجمن احمدیہ کو خلافت کی بعیت اور نگرانی سے بالا قرار دیتے ہوئے اس کے فیصلے اور اجتہاد کو قطعی اور ناطق قرار دیتے ہیں اور ساتھ ہی انجمن کے فیصلوں کو اپنے منشاء کے خلاف پا کر اس کو مطعون کرتے اور اس کے اجلاس سے واک آؤٹ کرتے ہیں۔(س) انسان جب ایک صداقت کا انکار کرتا ہے تو اس کے نتیجہ میں اس کو بہت سی صداقتوں کا خون کرنا پڑتا ہے۔اہل پیغام پر یہی گذری حضرت خلیفہ اول سے کی وفات کے بعد انھوں نے جماعت احمدیہ میں خلافت حقہ اسلامیہ کا انکار کیا۔جب مبایعین خلافت کی طرف سے اُن کو کہا گیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے آنے والے مسیح موعود کو نبی کے لفظ سے یاد فرمایا ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وحی میں آپ کو صریح طور پر نبی کا لقب دیا گیا ہے اور خلافت نبوت کی فرع ہے اور بقول حضرت خلیفہ امسیح الاول من جو حکم اصل کا ہے وہی فرع کا ہے اس لیے آپ لوگ خلافت اور اس کی بیعت کے لزوم سے کس طرح انکار کر سکتے ہیں ؟ اس پہ اہل پیغام نے خلافت کے انکار کے جوش میں حضرت میسج موعود علیہ السلام کی نبوت سے انکار کرنا شروع کر دیا۔شروع ایام میں کھلے طور پر تو اس انکار کی جرات نہ کر سکے بلکہ اپنی بعض تحریرات میں حضور کو نبی کے لقب سے یاد کرتے رہے ، مثلاً ۲۲ مارچ اللہ کے پیغام صلح میں ایک اداریہ کا عنوان قبلی قلم سے یہ لکھا ہے :- رد ہم ایک نبی کے سلسلہ کے ممبر ہیں" پھر ۲ را پریل شاہ کے پیغام صلح میں مولوی شیر علی صاحب کو مطالب کر کے لکھا ہے کہ: