نبوّت و خلافت کے متعلق اہل پیغام اور جماعت احمدیہ کا موقف

by Other Authors

Page 48 of 78

نبوّت و خلافت کے متعلق اہل پیغام اور جماعت احمدیہ کا موقف — Page 48

۴۸ " پھر خدا کے مرسل اور مامور کے کلام صریح کے بالمقابل یہ عامیانہ بات منہ سے اب آپ نکالتے ہیں " گر آہستہ آہستہ نکلی اور بروزی اصطلاحات کی غلط آٹ لیکر اہل پیغام نے تی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نبوت سے انکار کرنا شروع کر دیا۔اور ۱۲ اپریل کے پیغام ضلع میں اس انکار کی بنیاد اس طرح رکھی :- الفضل لکھتا ہے کہ گرزن گزٹ نے لکھا ہے کہ مرزا غلام احمد صاحب نبی نہیں تھے پس اس کی گڑی اس کے لڑکے کو ملنی چاہیے۔یہ اس کی غلطی ہے حضرت مرزا صاحب نبی تھے اور ان کی جانشینی کا مسئلہ اسی طرح حل ہونا چاہیے، جس طرح دوسرے انبیاء کی جانشینی کا مسئلہ ہوتا رہا۔ہم اس مضمون پر مفصل لکھنا چاہتے تھے مگر چونکہ مضمون بہت لمبا ہوا جاتا ہے اس لیے مختصر سا نوٹ اس پر لکھ دیتے ہیں تعجیب ہے۔کہ الفضل نے اپنے پہلے پرچہ میں تو حضرت مرزا صاحب کو خلقی بنی تسلیم کیا تھا اب پھر حضرت صاحب کو دوسرے انبیاء کی طرح نبی لکھے دیا کیا انبیاء سارے کے سارے ایسے ہی نبی تھے جیسے کہ مرزا ص صاحب یا سب کے سب نبی ظلی نبی تھے ہے نطقی اور بروزی تو صوفیاء کے سلسلہ کی اصطلاح ہے نہ انبیاء کے سلسلہ کی کوئی نبی دنیا میں آیا جس نے اپنے آپ کو خلی اور بروزی نبی کہا یا اپنی نبوت کی ایسی تشریحیں اور توضیحیں لکھیں اور شقیں لگا لگا کر اپنی نبوتیں نہلائیں ؟ کیا کسی نبی نے یہ بھی شقیں لگائی ہیں ؟ اور نبوت کی ایسی تقسیمیں صلیبی که مستقل بنی، غیر مستقل نبی ، جودی نبی