نبوّت و خلافت کے متعلق اہل پیغام اور جماعت احمدیہ کا موقف — Page 46
پھر لکھا ہے:۔۴۶ حضرت خلیفہ اسیح نے مولوی شیر علی صاحب کو ولایت جانے کا حکم دیا تھا اور آخری ایام میں آپ کو بار بار حضرت خواجہ صاحب کی امداد کے لیے ولایت بجھانے کی تاکید فرمائی تھی، لیکن افسوس اور نہایت افسوس کا مقام ہے کہ آپ کا حکم بھی آپ کے ساتھ ہی قیر میں دفن کر دیا گیا۔نہایت رنج و قلق کے ساتھ باوجود ستا آدمیوں کے اختلاف رائے کے انجمن کے ممبران نے جن میں زیادہ تھہ حصہ صاحبزادہ صاحب کے رشتہ داروں کا تھا اور جو پریذیڈنٹ کے ووٹ ملا کر آٹھ بیٹھتے تھے اس قضیہ نا مرضیہ کا فیصلہ کرا دیا اور مولوی شیر علی صاحب اس کار خیر سے محروم رہ گئے اور حضرت خلیفہ المیسج بر حق کے ارشاد کی اس طرح سے نافرمانی اور تذلیل کی گئی ذیل کے ممبران نے جب حضرت خلیفہ اس کے حکم کی اس طرح تذلیل ہوتی دیکھی تو ان سے برداشت نہ ہو سکا اور اس خیال سے کہ اس پاک وجود کی نافرمانی کی ذمہ داری اُن پر عائد نہ ہو وہاں سے اُٹھ کر چلے گئے :- (۱) مجد والدین حضرت مولانا محمد علی صاحب (۲) جناب شیخ رحمت الله صاحب (۳) جناب مرز العقوب بیگ صاحب (۴) جناب ڈاکٹر سید محمد حسین صاحب دپیغام صلح ۱۲ اپریل ۱۹۱۷) "پیغام صلح کے مندرجہ بالا حوالہ جات سے ان کے موقف کا عجیب بے غریب