نبوّت و خلافت کے متعلق اہل پیغام اور جماعت احمدیہ کا موقف — Page 44
۴۴ جماعت احمدیہ میں خلافت کے متعلق دوسرا موقف اہل پیغام نے حضرت خلیفہ اول کی وفات پر یہ اختیار کیا کہ اگر کوئی خلیفہ یا امیر منتخب کیا بھی جائے تو صدرا نجمین احمدیہ اس کے ماتحت نہ ہوگی بلکہ انجمن اپنے فیصلوں میں آزاد اور خود مختار ہے ، اس کے فیصلے قطعی ہیں۔اس کا اجتہاد ناطق ہے اس کو حکم دینے یا اس کے فیصلوں کو رد کرنے کا کسی کو اختیار نہ ہوگا۔چنانچہ پیغام صلح ۲۲ مارچ 19 ء میں حضرت خلیفہ المسیح الثانی رض سے اپنے اختلاف کا ذکر کرتے ہوئے اہل پیشام نے لکھا :- صدر انجمن احمدیہ کے متعلق وہ (یعنی حضرت خلیفہ المسیح الثانی ناقل) مطلق اختیار اپنے ہاتھ میں رکھنا چاہتے ہیں جس سے ہم کو اختلاف ہے کیونکہ حضرت مسیح موعود نے انجمن کو خدا کے مقرر کردہ خلیفہ کی باشین قرار دیگر اس کے فیصلوں کو اس وقت تک ناقابل تنسیخ قرار دیا ہے جب تک کوئی مامور اس کے خلاف اللہ تعالیٰ سے الہام نہ پائے" اہل پیغام نے ان دنوں میں ایک طرف تو نمین کو قطعی طور پر خود مختارا اور آزاد قرار دیا اور اس کے فیصلوں کو یقینی اور اس کے اجتہاد کو ناطق اور نا قابل تنسیخ قرار دیا ، مگر دوسری طرف ایک عجیب تضاد کا نمونہ پیش کیا اور اسی انجمن کے فیصلوں کو اپنے مفاد اور منشاء کے مطابق نہ پا کر اس کی تضحیک کی اور اس سے روگردانی اختیار کی۔چونکہ انجمن کے ممبران نے اہل ہل پیغام کے منشاء کے خلاف فیصلہ کیا اس لیے وہی آزاد اور خود مخت را در خدا کے مقرر کردہ خلیفہ کی جانشین انجمن ان کی نظر من مطعون ہو گئی۔چنانچہ حضرت خلیفہ مسیح الاول " کی وفات کے بعد صد را تخمین احمدیہ