نبوّت و خلافت کے متعلق اہل پیغام اور جماعت احمدیہ کا موقف

by Other Authors

Page 43 of 78

نبوّت و خلافت کے متعلق اہل پیغام اور جماعت احمدیہ کا موقف — Page 43

۴۴۳ کی وفات پر پہلا گلی اجماع اس بات پر ہوا تھا کہ کسی ایک فرد کو واجب الاطاعت خلیفہ تسلیم کیا جائے اور یہ بات عین خدائی تفت دیر کے مطابق تھی، اس لیے قریباً ایک ماہ بعد اہل پیغام نے ایک نئی تاویل تراشی اور ۲۲ را پریل ۱۹۱۷ پیغام مسلح میں ایک طویل مضمون به عنوان کھلی چشمی بنام مولوی شیر علی صاحب میں لکھا :- " خدا کے لیے کورانہ تقلید سے بچھ اگر ہم کہدیں کہ حضرت مولنا مولوی نورالدین صاحب نے الوصیت پر عمل نہیں کیا یا قوم سے چوک اور غلطی ہو گئی ہے تو اس سے ان کے تقدس میں فرق نہیں آسکتا۔انسانوں سے ایسی غلطیاں ہوتی چلی آئی ہیں۔اس غلطی کا ارتکاب قوم نے یا جناب مولانا صاحب نے جان بوجھ کر عمداً نہیں کیا " پیغام صلح ۲۲ را پریل سنامه) ان دونوں تاویلات کو پڑھنے سے ظاہر ہے کہ جب انسان ایک صداقت کو چھوتا ہے تو اس کا پاؤں کہاں سے کہاں پھسلتا ہے۔۵ ار ما رچ کو تو کہا گیا کہ حضرت خلیفہ اول یہ کی محبت الہی منشاء کے مطابق تھی اور الٹی تقدیر نے سب جماعت کی گردنیں آپ کے سامنے مجھے کا دیں اور حضرت خلیفہ اول کا وجود حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ہی وجود ہے۔مگر ۲۴ را پریل کو اپنے تبدیل شد عقائد کی تائید کے لیے یہ کہنے سے گریز نہ کیا گیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کے بعد آپ کے جسد اطہر کی موجودگی میں جماعت کے ہر مرد و عورت نے باتفاق صدر انجمن احمدیہ جو اجماع کیا وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وصیت کے خلاف تھا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے فرمان کی اس خلاف ورزی میں حضرت خلیفہ اول بھی برابر کے شریک تھے۔