نبوّت و خلافت کے متعلق اہل پیغام اور جماعت احمدیہ کا موقف — Page 39
۳۹ —(1) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وفات کے چند روز بعد ا جون ار کو مولوی محمد علی صاحب نے لاہور میں جماعت کے سامنے ایک تقریر میں کہا :- جب ان لوگوں کی معتبر اور مسلمہ کتب میں حضرت ابو بکر صدیق کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا قائمقام قرار دیا گیا اور صاف اقرار موجود ہے کہ مسیلمہ کا حضرت ابو بکر صدیق رض کے سامنے قتل کیا جانا گویا خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے روبرو قتل کیا جاتا ہے۔اور حضرت عمرہ کا قیصر و کسریٰ کے خزائن کا مالک ہونا گویا خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا فتح کرنا اور مالک ہونا ہے۔تو پھر کیا وجہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعض پیشگوئیوں کے متعلق انتظار نہیں کیا جاتا کہ آپ کے جانشین اور مخلص خادموں کے ہاتھوں سے یا آپ کی اولاد کے ہاتھوں سے خدا تعالیٰ ان کو پورا کر دے ؟" را الحكم جلد ۲ نمبر ۴۲ پرچه ۱۸ جولائی شاه (6)۔١٩٠ء خواجہ کمال الدین صاحب نے دسمبر 1910ء میں لاہورمیں اندرونی اختلافات سلسلہ احمدیہ کے اسباب پر تقریر کرتے ہوئے کہا :- جب میں نے بیعت ارشاد کی اور یہ بھی کہا کہ میں آپ کا حکم بھی مانونگا اور آنے والے خلیفوں کا حکم بھی مانوں گا۔اندرونی اختلافات سلسلہ احمدیہ کے اسباب من )