نبوّت و خلافت کے متعلق اہل پیغام اور جماعت احمدیہ کا موقف

by Other Authors

Page 26 of 78

نبوّت و خلافت کے متعلق اہل پیغام اور جماعت احمدیہ کا موقف — Page 26

۲۶ لیتے بلکہ اس کو عمومیت کا رنگ دیتے ہیں اور اس خلافت کو بھی آیت استخلاف کا مصداق ہی سمجھتے ہیں جس کے مستحق حضرت ابو بکر صدیق رض ہوئے ہیں پیس خلفاء کا وہ سلسلہ تبھی آمیت استخلاف کا مصداق قرار پاتا ہے جس کی ابتداء حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے وجود سے ہوئی۔تیسرا نتیجہ : اس عبارت سے یہ نکلتا ہے کہ انبیاء کے بعد سخت ابتلاؤں کا آنا مقدر ہوتا ہے اور ان ابتلاؤں کا خلفاء کے ذریعہ سے زائل کیا جانا اللہ تعالیٰ کی سنت قدیمہ ہے۔ہر ایک نبی کی امت سے یہ معاملہ پیش آیا۔اور یہ سنت قدیمہ سلسلہ احمدیہ میں بھی ضرور پوری ہوگی جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا : " سواب ممکن نہیں کہ خدا وند تعالیٰ اپنی قدیم سنت کو ترک کر دیوے یعنی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات پر بھی جماعت کو سخت ابتلاء پیش آوے گا اور خوف کی حالت پیدا ہو گی۔لیکن سنت قدیمہ کے مطابق آپ کے خلفاء کے ذرلیہ اس خوف کو امن سے بدل دیا جائے گا اور ابتلاؤں کو زائل کیا جائے گا۔اور یہ واقعہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کے بعد حجات پر سخت ابتلاء آئے۔لیکن اللہ تعالیٰ نے خلیفہ کے ہاتھ سے اُن کو ڈور کیا اور اس طرح اللہ تعالیٰ کی قدیم سنت پوری ہوئی۔چوتھا نتیجہ : اس عبارت سے یہ نکلتا ہے کہ قدرت ثانیہ کے سلسلہ یعنی خلافت کے سلسلہ کو دوام بخش جائے گا اور تا قیامت خلفاء سلسلۂ احمدیہ میں آتے رہیں گے۔جماعت کا نظام دن بدن مضبوط سے مضبوط تر ہوتا چلا جائے گا اور اسے ایسا استحکام حاصل ہو جائیگا کہ خلافت کا سلسلہ قیامت تک جاری رہے گا۔کیونکہ حضور نے فرمایا :- عت