نبوّت و خلافت کے متعلق اہل پیغام اور جماعت احمدیہ کا موقف — Page 25
۲۵ یعنی خوف کے بعد پھر ہم اُن کے پیر جما دیں گے؟ اور پھر فرمایا :- سوا سے عزیزہ وا جبکہ قدیم سے سنت اللہ یہی ہے کہ خداتعالی دو قدرتیں دکھلانا ہے تا مخالفوں کی دو جھوٹی خوشیوں کو پامال کر کے دکھلا دے۔سواب ممکن نہیں کہ خدا تعالیٰ اپنی مت دیم سنت کو ترک کر دیوے۔اس لیے تم میری اس بات سے ہو میں نے تمھارے پاس بیان کی ہے غمگین مت ہو اور تمھارے دل پریشان نہ ہو جائیں کیونکہ تمھارے لیے دوسری قدرت کا دیکھنا وہ بھی ضرور ی ہے اور اس کا آنا تمھار سے لیے بہتر ہے کیونکہ دائمی ہے جس کا سلسلہ قیامت تک منقطع نہیں ہو گا اور وہ دوسری قدرت نہیں آسکتی جب تک میں نہ جاؤں لیکن میں جب جاؤں گا تو پھر خدا اس دوسری قدرت کو تمھارے لیے بھیج دے گا ، جو ہمیشہ تمھارے ساتھ رہے گی۔(الوحینہ صفحہ ۲۶) حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اس تحریر سے کئی نتائج نکلتے ہیں :- پہلا نتیجہ : یہ ہے کہ قدرت ثانیہ خلفاء ہی کا نام ہے۔کیونکہ حضرت میسج موعود علیہ السلام فرماتے ہیں : " تب خدا تعالیٰ نے حضرت ابو بکر صدیق رض کو کھڑا کر کے دوبارہ اپنی قدرت کا نمونہ دیکھا یا۔قدرت ثانیہ کے سمجھانے کے لیے حضرت ابو بکر صدیق رضا کی مثال دے کر حضور نے اس بات کو واضح فرما دیا کہ قدرت ثانیہ سے مراد خلافت ہے۔دوسرا نتیجہ : اس عبارت سے یہ نکلتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام آیت استخلاف سے مراد صرف ماموریت والی خلافت ہی مراد نہیں