نبوت سے ہجرت تک

by Other Authors

Page 55 of 81

نبوت سے ہجرت تک — Page 55

۵۵ نہ شرمندہ ہوئے کہ میں کیا کر رہا ہوں۔آپ سوتے جاگتے ہر وقت اپنے دب کے متعلق سوچتے کہ اُس کو کس طرح خوش کریں۔آپ ہر کام میں سوچتے کہ جو میں کہ رہا ہوں اس میں اللہ تعالیٰ کی مرضی شامل ہے یا نہیں۔آپ کی اپنی الگ کوئی خواہشات نہ تھیں۔آپ کا سارا وجود خدا تعالی کے لئے تھا پھر اپنے وجود کا آرام کیا دیکھنا طائف میں پتھر کھائے۔آپ انسان ہی تو تھے دردبھی ہوا ہو گا اور تکلیف بھی مگر جب فرشتے نے کہا آپ فرمائیں تو ان کو پیس دیا جائے تو آپ نے کمال مہربانی سے منع فرما دیا۔ہم کہہ سکتے ہیں اس لئے صبر کر لیا کہ انتقام یا بدلہ لینے کی طاقت ہی نہ تھی۔یہاں تو آپ کے مولا قادر و توانا مالک نے فرشتے کو بھیجا کہ دو پہاڑوں کو آپس میں ٹکرا کے بستی والوں کو اگر آپ فرمائیں تو سزا دی جاسکتی ہے۔یہ طاقت ہونے کے باوجود فرشتے کو منع کرنا عام انسان کے صبر، حوصلہ اور استقلال کی بات نہیں۔اور سوچ کا انداز کتنا حسین کہ ان میں سے ہی خدا تعالیٰ کو ماننے والے پیدا ہو سکتے ہیں۔حیرت ہوتی ہے۔بعض دفعہ تو عقل یہ ماننے پر تیار نہیں ہوتی کہ آپ انسان ہیں۔کتنا بلند مقام ہے۔آسمان کی بلندیوں سے بھی بلند اور اونچا۔سبحان اللہ۔للهم صلی علی حمد و بارک وسلم۔بچہ - اللهم صلی علی محمد وبارك وسلم۔امی جان آسمان کی بلندیوں سے بھی بلند اور اونچا مقام امیں سمجھا نہیں۔ہاں۔ہم سمجھ بھی نہیں سکتےتھےمگر اللہ پاک نے اپنے پیارے کا مقام مھانے کے