نبوت سے ہجرت تک — Page 45
۴۵ پاک کی سورہ قمر کے پہلے رکوع میں آتا ہے۔بچہ۔پھر تو اُن کو مان لینا چاہیئے تھا کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کا دین سچا ہے اور جس خدا کی طرف وہ بلاتے ہیں وہ طاقت وہ قدرت والا خدا ہے۔ماں۔میں نے کئی دفعہ ذکر کیا ہے کہ دین کو ماننے کے لئے فطرت کی نیکی کی ضرورت ہوتی ہے جو ان شریر وں میں نہ تھی۔یہ تو صرف ہنسی مذاق اُڑانے والے تھے انہیں خدا کا کیا خوف وہ تو کہنے لگے ہم نہ کہتے تھے کہ محمد جادوگر ہے۔میں یہاں تھوڑی وضاحت کہ دوں خواب کی تعبیر کے لحاظ سے چاند سے مراد بادشاہ اور حاکم ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے انہیں خبردار کیا کہ اب تمہاری بادشاہت اور سرداریاں عرب سے ختم ہونے والی ہیں۔پھر عربوں کا قومی نشان بھی چاند تھا جس سے خدا تعالیٰ یہ بتانا چاہتا تھا کہ اب تمہاری بادشاہت ختم ہوگئی۔اب نیا اسلامی نظام قائم ہو گا۔قرآن پاک میں اقتربت ہے الساعة آیا ہے یعنی قیامت کی گھڑی قریب ہے۔یہ واقعہ 9 نبوی میں ہوا بیچہ۔بچہ کیسے نادان لوگ ہیں کہ دیکھتے ہیں مگر مانتے نہیں اتنا بڑا نشان دیکھ کر تو مان ہی جانا چاہیئے تھا۔ماں۔صرف یہی نہیں اللہ تعالیٰ تو مسلسل پیارے آقا کے ساتھ اپنے تعلق کو ظاہر کر رہا تھا نہ نبوی میں پیارے آقا کو دو زبر دست صدمے پہنچے۔آپ کے چھا حضرت ابو طالب اور آپ کی پیاری ہیوی حضرت خدیجہ کی وفات ہوگئی۔ه سيرة خاتم النبيين حصہ اول ص ۲۲۵