نبوت سے ہجرت تک

by Other Authors

Page 46 of 81

نبوت سے ہجرت تک — Page 46

شعب ابی طالب کی سختیاں تین سال تک برداشت کرنا کوئی آسان کام نہیں تھا۔ڈھنگ کا کھانا پینا نہ ہونے کی وجہ سے سب کی صحتیں خراب ہو گئیں تھیں اور یہ دونوں مستیاں تو چل ہی نہیں بچہ۔پیارے آقا کو بڑا دکھ ہوا ہو گا۔ماں۔دکھ ہی کی بات ہے اتنی محبت و شفقت کرنے والے چا چنہوں نے باپ کی طرح پالا۔ساری زندگی آپ کے لئے سہارا بنے رہے۔سارے قبیلہ قریش سے دشمنی مول لے لی لیکن پیارے بھتیجے کا ساتھ نہ چھوڑا۔یوں اپنے باپ کی وصیت کو بھی پورا کر دیا۔وفات کے وقت اُن کی عمر انٹی سال سے زائد تھی۔اور حضرت خدیجہ جیسی دکھ درد کی ساتھی جس نے اپنا سب کچھ آپ پر قربان کرد یا اپنی ساری دولت، نوکر، نوکرانیاں سب کچھ چھوڑ کر نفرت اور سادگی میں زندگی گزار دی۔نبوت کی سب سے پہلے گواہی دی۔ہر معاملہ یں تسلی دی ہیں۔حوصلہ بڑھائیں آرام وسکون کا خیال رکھتیں۔یہ ساری قربانیاں حضرت خدیجہ کی پیارے آقا کو یاد آہیں اور بے قرار کر دیتی تھیں۔وفات کے وقت آپ پینسٹھ سال کی تھیں۔ان دونوں غموں کی وجہ سے آپ نے ، نبوی کے سال کو عام الحزن یعنی عموں کا سال قرار دیا۔بچہ۔اب تو ہمارے پیارے آقام بالکل اکیلے رہ گئے۔حضرت ابو طالب تو ہر موقع پر درمیان میں آجاتے تھے۔اب تو مخالفین کا ہا تھ کھل گیا ہوگا۔