نبوت سے ہجرت تک — Page 44
بوم کام دیکھنا چاہیے۔اور بعض افراد جن میں ہشام بن عمرو زہیر بن ابی امیہ ، مطعم بن عدی، ابو الخیری اور زمعہ بن اسود نے مل کر تجویز دی کہ اب اس کو ختم کر دیا جائے۔جب یہ بات قریش کے سرداروں کے سامنے ہوئی تو ابو جہل بھڑک اٹھا۔بولا نہیں۔یہ معاہدہ قائم رہے گا۔اتنے میں معاہدہ دیکھا تو آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بات کی تصدیق ہوگئی۔سوائے لفظ اللہ کے کچھ بھی باقی نہ تھا مطعم بن عدی نے ہاتھ بڑھا کر اس کو پھاڑ دیا۔ابو جہل اور اس کے ساتھی دیکھتے رہ گئے۔اس کے ساتھ ہی معاہدہ بے اثر ہو گیا۔قریش کے بااثر لوگ ہتھیار لگا کہ گئے اور ان تمام مقدس افراد کو جنہوں نے صرف اور صرف خدا کی خاطر یہ قید ، ظلم، بھوک پیاس اور تکلیفیں مبر داشت کیں تھیں باہر نکال لائے۔بچہ۔اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ یہ ظلم تو ختم ہوا۔اللہ پاک اپنے پیاروں کا کتنا ساتھ دنیا ہے۔ان تین سالوں میں اللہ تعالیٰ نے ان ہی لوگوں کو اس معاہدے کے خلاف کر دیا۔پھر اس کو دیمک جیسا چھوٹا سا کیڑا چاٹ گیا۔اور اس دوران حج میں تبلیغ بھی جاری رہی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ہر وقت ایک ہی لگن رہی۔اور جب بھی موقع ملتا آپ اپنا کام کرتے۔کوئی خوف خطر نہ تھا۔ماں۔ان دنوں میں ایک اہم واقعہ ہوا۔کفار مکہ نے کہا کہ اگر آپ سچے ہیں تو کوئی معجزہ دکھائیں۔آپ نے چاند کی طرف انگلی اُٹھائی تو اس کے دو ٹکڑے الگ الگ دکھائی دیئے۔یہ حیران کر دینے والا معجزہ تھا جس کا ذکہ قرآن