نبوت سے ہجرت تک

by Other Authors

Page 43 of 81

نبوت سے ہجرت تک — Page 43

ماں۔یہ ظلم تقریبا تین سال تک جاری رہا۔صرف حج کے دنوں میں جب امن ہوتا۔یہ باہر نکل سکتے تھے۔اور اس وقت بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مختلف قبائل اور باہر سے آئے ہوئے وفود کے پاس جاکر دین کی تبلیغ کرتے۔اس طرح کچھ نہ کچھ عرب میں اسلام کی تعلیمات پھیل رہی تھیں۔۔یہ معاہدہ آخر کب تک چلا۔ماں۔اس میں بھی خدا تعالیٰ کی قدرت نظر آتی ہے۔اللہ تعالیٰ نیک فطرت لوگوں کے دلوں میں رحم پڑھا رہا تھا۔اور وہ اندر ہی اندر ایک دوسرے کو شرم دلاتے بغیرت دلاتے اس ظالمانہ معاہد سے کے خلاف بولتے ایک دن خدا تعالے نے اپنے پیارے کو بتایا کہ جو معاہدہ لکھا گیا تھا۔اس کو دیمک کھا گئی ہے۔صرف اللہ کا لفظ باقی رہ گیا ہے۔آپ نے اپنے چچا حضرت ابو طالب کو بتایا کہ میرے اللہ نے مجھے یہ خبر دی ہے حضرت ابو طالب اُسی وقت اُٹھے اور خانہ کعبہ میں پہنچے جہاں اور بہت سے قریش مجلس لگائے بیٹھے تھے۔آپ نے اُن لوگوں کو مخاطب کیا کہ آخری ظالمانہ معاہدہ کب تک چلے گا۔اللہ تعالیٰ نے اُسے ختم کر دیا ہے۔محمد کے اللہ نے اس کو بتایا ہے کہ معاہدے کو دیمک چاٹ گئی ہے۔میں چاہتا ہوں کہ اس کو نکال کر دیکھو محمد کی بات کہاں تک پہنچ ہے۔آپ کو خود تو یقین تھا ہی کہ ایسا ہی ہوگا۔لیکن خدا تعالیٰ کی خبروں کی اطلاع اب کفار کو بھی دینا چاہتے تھے۔بعض لوگوں نے جن کے دل پہلے ہی اس کے خلاف تھے بولے ضرور