نبوت سے ہجرت تک

by Other Authors

Page 42 of 81

نبوت سے ہجرت تک — Page 42

تہ۔پھر تو می بڑی مشکل ہو گئی ہوگی کھانے پینے کی۔پیارے آقا کا کیا حال تھا۔ں۔ظاہر ہے کہ جب قید کر دیا۔تو کیا ہوسکتا تھا۔کوئی بھی چیز یہ ظالم اندر نہیں جانے دیتے تھے۔باقاعدہ دھیان رکھتے تھے کہ کوئی ان کو ضرورت کا سامان نہ پہنچا دے۔بہت ہی تکلیف اور مصائب کے دن تھے۔جو بھی چیز ملتی کھانی پڑتی بعض اوقات تو بھوک کی شدت سے یہ بھی معلوم نہ ہوتا کہ کیا کھارہے ہیں۔زمین سے کچھ ملا، اٹھایا اور منہ میں ڈال لیا سوکھا چھڑا پانی میں بھگو کہ تم کیا کہ چہایا جاسکے۔بچوں کی چیخ و پکار دور تک شنائی دیتی اور یہ ظالم نوش ہوتے۔ہ۔کیا سارے کفار میں کوئی بھی ایسا رحم دل نہ تھا جن کوان تکلیفوں کا احساس ہوتا۔ں۔سارے انسان تو ایک جیسے نہیں ہوتے جس طرح سب انسان نرم مزاج کے نہیں ہوتے اسی طرح سب ظالم بھی نہیں ہوتے۔قریش میں بھی بہت سے لوگ اس ظلم کے خلاف تھے۔لیکن اپنے سرداروں کے خوف کی وجہ سے چپ تھے کہ کون قبیلہ کی دشمنی مول نے۔کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو اندر اندر چھپ چھپا کر کچھ کچھ پہنچا دیتے۔ان میں حکیم بن حزام حضرت خدیجہ کے بھتیجے تھے۔وہ کھانا لے جاتے۔ایک دفعہ ابو جہل کو پتہ چل گیا۔بڑا جھگڑا ہوا اور مارپیٹ کی نوبت آئی ، بچہ۔آخر کب تک یہ قید رہے۔درمیان میں کبھی بھی باہر نہیں آئے ؟ تھوڑی دیر کے لئے بھی نہیں ؟