نبوت سے ہجرت تک

by Other Authors

Page 37 of 81

نبوت سے ہجرت تک — Page 37

میری بات مان جاؤ تو دین ودنیا میں تمہارا ہی فائدہ ہے۔نریش بولے ، اچھا ایک اور تجویز ہے کہ تم اپنے خدا سے کہہ کہ ہمارے خشک پہاڑی علاقے کے ملک کو حبس میں پانی اور سبزہ کم ہے۔شام اور عراق کی طرح کا زرخیز اور ہرا بھرا علاقہ بنوا دو۔آپ نے فرمایا : میرا کام تو صرف یہ ہے کہ تم کو سچائی کی راہ دکھا دوں۔ہاں خدا تعالیٰ اگر چاہے تو تمہارے ایمان لانے کے بعد وہ اپنے فضل سے ایسا کر سکتا ہے۔قریش پولے : اچھا کم از کم ایسا تو ہو کہ تمہارے ساتھ فرشتہ ہوں، محل میں رہو، اور سونے چاندی کے ڈھیر تمہارے پاس ہوں۔لیکن تم تو ہماری طرح بازاروں میں پھرتے اور کام کرتے ہو۔خدا کے نبی کیسے ہو گئے۔پیارے آقا نے بڑے دکھ سے کہا۔کہ میں یہ تو دعوی نہیں کر نا کہ میں سونا چاندی دینے آیا ہوں بلکہ میں تو خدائے واحد کی طرف سے بلانے آیا ہوں میں پھر تم کو کتنا ہوں کہ اگر مان لو گے تو ضرور اس کی رحمت سے حصہ پاؤ گے۔اب تو قریش بگڑ گئے۔بولے اچھا جس عذاب سے ڈراتے ہو اُسی کو لے آؤ۔آسمان سے فرشتوں کی فوج بلا لو۔خدا کی قسم اب تو یہی نظر آتا ہے کہ یا موسم رہیں گے یا تم رہو گے۔بچہ۔پیارے آقا کو بہت افسوس ہوا ہوگا۔ماں۔جی بیچے ! آپ دکھی دل کے ساتھ لوٹ گئے کہ کیسے ان کو سمجھاؤں یہ توڑی ! عجیب باتیں کر تے ہیں۔خدا ان سب باتوں سے پاک اور بے نیاز ہے اور وہ قادر خدا جانتا ہے کہ منکرین سے کب اور کیا سلوک کرنا ہے۔