نبوت سے ہجرت تک

by Other Authors

Page 36 of 81

نبوت سے ہجرت تک — Page 36

سردار ولبدین مغیره - عاص بن وائل ، ابوجهل ، امیہ بن خلف ، عتبه شید اور ابوسفیان کے علاوہ اسود بن مطلب ، نظر بن حارث اور ابو لبختری صحن کعبہ میں جمع ہوئے اور صلح کے انداز میں بات کرنے کے لئے ایک آدمی کے ذریعے پیارے آقا کو پیغام بھیجا کہ " ہماری ایک بات من جاؤ۔“ آپ تو ایسے موقعوں کی تلاش میں رہتے تھے۔فوراً آئے کہ اللہ تعالیٰ کا پیغام دینے کی کوئی صورت نکل آئے۔لیکن ان بدنصیبوں نے بات یوں شروع کی۔اے محمد تمہاری وجہ سے قوم میں اختلاف بڑھ رہا ہے تم اپنے آباء اجداد کے مذہب میں برائیاں دکھا کر بزرگوں کو برا کہتے ہو۔تہوں کو گالیاں دیتے ہو ہم حیران ہیں کہ کیا کریں۔اگر تمہاری ساری کوشش یہ ہے کہ تم مالدار ہو جاؤ تو تمہیں مال جمیع کر دیتے ہیں۔تم سب سے زیادہ مالدار ہو جاؤ گے۔اگر عزت چاہتے ہو تو ہم سب تم کو اپنا سردار بنا لیتے ہیں۔اگر حکومت کی طلب ہے تو بادشاہ مان لیتے ہیں۔اگر تمہیں کوئی بیماری ہے جیس کی وجہ سے تم ایسی غلط باتیں کرنے لگ گئے ہو تو اپنے پاس سے علاج کر وا دیتے ہیں۔اگر خوبصورت لڑکی چاہتے ہو تو عرب کی بہترین لڑکی تلاش کہ دا دیتے ہیں۔لیکن تم اس نئے دین کی تبلیغ سے باز آجاؤ۔بچہ۔پیارے آقا نے جواب میں کیا فرمایا۔ماں۔آپ نے بڑے تحمل سے فرمایا۔اسے قریش کے سردارد ! مجھے ان چیزوں میں سے کسی کی بھی ضرورت نہیں ہیں تو خدا کی طرف سے ایک رسول ہوں۔اور اسی کا پیغام تم کو سنانا ہوں۔مجھے اپنی قوم سے ہمدردی ہے۔اگر