نبوت سے ہجرت تک

by Other Authors

Page 32 of 81

نبوت سے ہجرت تک — Page 32

٣٣ تو قبیلہ قارہ کا رئیس لاغنہ مل گیا۔اس نے سفر کا سبب پوچھا تو آپ نے کہا کہ "مجھے قوم نے نکال دیا ہے میں ایسی جگہ جانا چاہتا ہوں جہاں آزادی سے خدا کی عبادت کر سکوں۔“ این الاغنہ نے کہا کہ : و تخم کو مکہ نہیں چھوڑنا چاہیئے۔اور نہ ہی مکہ کے لوگوں کو تم جیسے انسان کو نکالنا چاہیے۔چلو میں تمہیں اپنی پناہ میں لیتا ہوں۔مکہ میں ہی اپنے رب کی عبادت کیا کرو۔“ بچہ۔کیا حضرت ابو بکر صدیق رض واپس لوٹ آئے۔مال - وطن سے کون جانا چاہتا ہے۔ابن الاغنہ نے اصرار کیا تو لوٹ آئے۔اس نے فرش کے دنیوں کی علامت کی کہ ایسے نیک اور اچھی صفات والے انسان کو کیوں نکالتے ہو۔ادھر حضرت ابو بکر صدیق رض نے اپنے گھر کے صحن میں چھوٹی سی مسجد بنا بی۔جس میں وہ نمازا در قرآن پاک پڑھا کرتے تھے۔آپ کا دل بہت نرم تھا۔اور قرآن پاک پڑھتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے خوف سے کبھی اُس کے احسانات کی وجہ سے بہت رویا کرتے۔بچہ۔اس طرح تو لوگوں پر کلام پاک کا بہت اثر پڑتا ہوگا۔اں۔قرآن پاک کی سچائی کا ایک بڑا نبوت یہ ہے کہ یہ دلوں پر اثر کرتا ہے۔قریش کی عورتوں، بچوں اور ان افراد پر جو سادہ طبیعت کے تھے جنہیں اسلام سے کوئی دشمنی یا تعصب نہ تھا بہت متاثر ہوتے۔جب وہ حضرت ابو بکر ض کی کلام پاک پڑھتے ہوئے کیفیت دیکھتے تو ان پر بہت اللہ ہوتا۔ایک اور