نبوت سے ہجرت تک — Page 31
مدینہ آئے جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جنگ خیر سے واپس آرہے تھے جنگ بدر، جنگ احد، جنگ نخندق ہو چکی تھیں۔بچہ۔یہ بادشاہ تو بہت نیک اور انصاف کر نے والا نکلا۔اللہ تعالیٰ تو اس سے بہت خوش ہوا ہو گا۔ماں۔کیوں نہیں۔اللہ تعالیٰ کا ایک اصول ہے۔کہ وہ ان بندوں کو جو اس کی رض کی خاطر کوئی کام کرتے ہیں دنیا میں عربت دے کر اپنے پیار کا ثبوت دیتا ہے ایسا ہی اس بادشاہ کے ساتھ ہوا۔پنجاشی کی اپنے دشمن کے ساتھ لڑائی ہوگئی مسلمان پریشان ہوئے۔انہوں نے فیصلہ کیا کہ اگر بادشاہ کو ضرورت پڑی تو وہ بادشاہ کا ساتھ دیں گے۔لیکن جنگ تو دریائے نیل کے یار ہو رہی تھی جیفرز زبیر بن العوام حالات معلوم کرنے لگے اور مسلمان خدا کے حضور دعاؤں میں لگ گئے کہ مولا اس یا دشاہ نے تو ہم یہ رحم کیا ہے تو اس کو مشکل اور انتہا سے بچا۔چنانچہ چند دن بعد جب حضرت زبیر رضہ واپس آئے تو فتح کی خوشخبری بچہ۔جو مسلمان مکہ میں رہ گئے تھے ان پر تو سختیاں بڑھ گئی ہوں گی۔ماں۔سختیاں تو بڑھ رہی تھیں۔حضرت ابو بکر صدیق رض وہ واحد شخص تھے جن کی نفر عزت کرتے اور بات ماننے کے لئے تیار ہو جاتے تھے۔کیونکہ ان کے احساس ہر قبیلہ ، ہر خاندان پر تھے۔اور عرب قوم محسن کا بہت لحاظ رکھتی ہے۔اس کے باوجود ان کو بھی تکلیفیں دی جاتی تھیں۔لیکن حضرت ابوبکر صدا کو سب سے زیادہ دکھ اس بات کا تھا کہ یہ لوگ مجھے سکون سے خدا کی عبات نہیں کرنے دیتے۔چنانچہ وہ ایک دن مکہ سے جنوب کی طرف برکی الغمار پینے