نبوت سے ہجرت تک — Page 23
۲۳ کج کے طواف کے لئے آتے۔اس وقت آپ کو سب سے ملنے کا اور بنیام پہنچانے کا موقع مل جاتا۔بچہ۔اس وقت کفار مکہ کیا کرتے تھے۔ماں۔ولید بن مغیرہ نے سارے رؤساء قریش کو اپنے گھر بلایا۔اور کہا کہ کوئی ایک بات کا فیصلہ کر لو کہ مجھ پر آنے والوں سے کیا کہا جائے گا۔اگر کوئی کچھ کے اور کوئی کچھ کہے گا تو ہم ذلیل ہوں گے۔اور محمد کو سب مظلوم اور سچا جائیں گے۔ایک نے کہا کہ ہم کہہ دیں گے کہ یہ جھوٹا آدمی ہے۔ولید نے کہا کہ ہم میں پیدا ہوا۔بڑھا ، پھر جوان ہوا اور اب بوڑھا ہورہا ہے۔ہم تو اس کو صدیق کہتے ہیں۔اب کیسے جھوٹا ہو گیا۔کون ہماری بات مانے گا۔بچہ۔یہ بات ہوئی نا۔ہمیشہ سچ بولنے والے کو اگر کوئی چھوٹا کہے توسب کہنے والے کو چھوٹا سمجھتے ہیں۔ماں۔دیکھا۔اس لئے کہتی ہوں کہ ہمیشہ پہنچ بولنا چاہیئے۔پھر ایک بولا کہ ہم کہیں گے کہ کا ہن ہے۔ولید بن مغیرہ نے کہا کہ کاہنوں کی طرح ہاتھ جلانا ، گنگنانا کہاں سے دکھاؤ گے۔ایک نے کہا کہ کہہ دیں گے کہ مجنون ہے۔ولید نے کہا کہ اس میں تو کوئی وحشت نہیں اضطراب نہیں۔وہ تو بڑا پر سکون اور مسکراتا رہتا ہے۔ایک نے کہا ہم کہ دیں گے کہ وہ ست عر ہے۔ولید نے کہا کہ اس کے کلام میں اشعار والی بات کب ہے۔ایک بولا پھر جادوگر کہ دیتے ہیں۔ولید لولا