نبوت سے ہجرت تک — Page 24
۲۴ دہ کب جھاڑ پھونک کرتا ہے۔نہ تو گر ہیں ڈالتا ہے نہ کھولتا ہے۔سب ایک ساتھ بولے کہ کیا کہیں۔ولید بن مغیرہ کہنے لگا یہی سوچ سوچ کر تو میں نے تم سب کو بلایا تھا مجھے توکوئی ایسی بات نظر نہیں آتی ہو ہم اس کے بارے میں کہ سکیں۔آخر فیصلہ یہ ہوا کہ چلو ساحر کہ دیتے ہیں۔کہ اس کا سحر نظر نہیں آتا لیکن وہ ماں کو بیٹے سے۔میاں کو بیوی سے بھائی کو بھائی سے چھڑا دیتا ہے۔بچہ۔پھر تو سب نے آپ کو سر مشہور کر دیا ہوگا۔ماں۔جب حج کا وقت آیا تو سارے مکہ کے لوگوں نے آنے والے قبائل کو مل مل کہ ڈایا اور سمجھایا کہ ہمارے شہر میں ایک ساتھ ہے۔تم اس کی بات نہ سننا بسنی اور گئے کام سے۔ساتھ ہی آوارہ لڑکوں کو بھی لگا دیا کہ یہ جیب بات کرے تم سب شور کرنا شروع کر دینا تا کہ اس کی بات کسی کی سمجھ میں نہ آئے۔اس طرح سارے عرب کے قبائل میں یہ بات پھیل گئی۔بچہ۔پھر تو پیارے آقا بہت اُداس ہوں گے۔ماں۔ہاں۔اُداس بھی ہوتے تھے اور پریشان بھی۔لیکن اپنے خدا کی رحمت سے مایوس نہیں تھے۔آپؐ جب یہ حالات دیکھتے کہ نہ تو مکہ والے خود مانتے ہیں اور نہ کسی اور عرب قبائل کو ماننے دیتے ہیں ادھر ظلم سے بھی باز نہیں آتے تو آپ نے مسلمانوں سے کہا کہ جو بھی ہجرت کرنے کی طاقت رکھتے ہے وہ مکہ چھوڑ دے مسلمانوں نے پوچھا کہاں جائیں۔آپ نے فرمایا جعبش کا بادشاہ انصاف پسند ہے۔عیسائی ہے۔اُس کی حکومت میں کوئی کسی پر