نبوت سے ہجرت تک — Page 21
M کا تو کوئی پوچھنے والا بھی نہیں تھا۔وہ اپنی جانیں دے رہے تھے تڑپتے تھے لیکن خدا تعالی کے سوا کسی کو نہیں پکارتے تھے۔ایسا لگتا تھا جیسے میر اور برداشت کی مضبوط چٹان ہوں۔بچہ۔آپ کچھ مظلوموں کے بارے میں تو بتائیں۔ماں۔میری جان ! یہ تو بڑی لمبی داستانیں ہیں۔کسی ایک انسان کی تو نہیں۔اس۔وقت کی پوری ایک قوم کی۔کفار کہتے تھے کہ اتنا ظلم کرو کہ یہ لوگ باز آجائیں۔اور مسلمانوں کا عزم یہ تھا کہ جو کرنا ہے کر لو، جان چلی جائے۔لیکن اب پیار سے آقا کا دامن نہیں چھوڑنا۔بچہ۔پیارے آقا کیا کرتے تھے۔ماں۔آپ کے پاس تو ایک ہی راستہ تھا۔کہ خدا تعالیٰ کے دربار میں فریاد ہوتی۔مسلمانوں کو حوصلہ دیتے صبر کی تلقین فرماتے یقین دلاتے۔اور جو احکام الہی نازل ہو رہے تھے۔سناتے کہ یہ سب عارضی دکھ ہیں۔خدا تعالیٰ کے پیاروں کو ہمیشہ ایسے ستایا گیا ہے۔جب ظلم بڑھتا ہے تو خدا تعالی کی مدد بھی جلدی آتی ہے۔اس وقت بھی ایسا ہی ہوا۔اسلام پہلے سے بھی بڑھ کہ پھیلنے لگا۔جن لوگوں کے دل میں شرافت تھی وہ سوچنے پر مجبور ہوئے کہ اتنے ظلم کے بعد بھی اگر کوئی دین سے نہیں ہٹتا تو ضرور کوئی صداقت ہوگی۔یوں ذہن بدلنے لگے۔اور ایسا طبقہ پیدا ہونے لگا جو اسلام کے قریب آرہا تھا۔اور ساتھ ہی وہ ظالموں کو بھی روکتے تھے۔لیکن جب پیارے آقا ظلم کے جواب میں صبر کرتے اور گالی کے