نبوت سے ہجرت تک — Page 15
یعنی افسوس ان لوگوں پر کہ کوئی رسول بھی ان کی طرف ایسا نہیں آیا جہیں۔ساتھ انہوں نے سہنسی اور ٹھٹھا نہ کیا ہو۔بچہ۔پھر کیا ہوا۔ماں۔جب قریش کی مخالفت شروع ہوئی تو وہ دن بدن بڑھتی چلی گئی۔ہر طرز سے تکلیف دینے مسلمانوں کا مذاق اڑاتے۔جہاں جو مل جاتا اس کو مارتے پیٹتے۔اگر کوئی بات کرتا تو شور مچاتے۔دکھ دیتے۔منہ پر تھوک دیتے ہنتے اور سب سے زیادہ بُرا حال تو غریب اور کمز ور مسلمانوں کا تھا لیکن غد اور لونڈیاں جن کو وہ زمین کا ادنی کیڑا بھی نہیں سمجھتے تھے ، سوچو ان کا کیا حال ہوگا۔یہ ایک بڑی درد ناک داستان ہے جو کہ لائی بھی ہے اور ایمان کو مضبوط بھی کرتی ہے کہ ایسے مقدس افراد بھی گزرے ہیں۔قریش مکہ غصہ اور غضب کی یہ حالت تھی کہ کسی طرح بھی ممکن ہو ان کو دین سے رو جائے اور اس مذہب کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا جائے۔بچہ۔امی جلدی سے بتائیں پھر کیا ہوا۔ماں۔۔ہونا کیا تھا۔جتنا قریش ظلم کرتے ، اتنا ہی یہ لوگ اور مضبوطی سے اپنے ایکا پر قائم ہو جاتے۔اور یہ بات اُن کو چڑا دیتی کہ آخر محمد ان کو کیا دیتا ہے بچہ۔پیارے آقا پر بھی ظلم ہوتا تھا ؟ ماں۔بالکل ہوتا تھا۔آپ کے راستے میں آپ کی چی ام جمیل جو ابو لہب کی ہو تھی۔کانٹے بچھاتی تھی۔سر پہ خاک ڈالی جاتی۔مارا جاتا۔دکھ دیتے۔نماز پڑھتے تو خاک اُڑاتے تبلیغ کرتے تو شور مچاتے۔قرآن پاک کی تلاوت فرما