نبوت سے ہجرت تک

by Other Authors

Page 14 of 81

نبوت سے ہجرت تک — Page 14

۱۴ حضرت یا سفران کی بیوی سمیران اور بیٹا عا مریض اس خاندان کو ابوجہل بہت دکھ دیا تھا۔حضرت صہیب بن سنان جو صہیب رومی بھی کہلاتے ہیں۔یہ اپنا سب کچھ مکہ والوں کے کہنے پر چھوڑ کر پیارے آقا کے پاس مدینہ آگئے تھے۔حضرت ابو موسیٰ اشعری مین کے رہنے والے تھے۔ان کے بارے میں پیارے آقا نے کہا تھا کہ ابو موسیٰ کو تو خدا نے داؤدی لحن سے حصہ دیا ہے بچہ۔اس گھر میں ایمان لانے والے آخری کون سے صحابی ہیں۔مان۔حضرت عمر فاروق نے جب اس گھر میں اسلام قبول کیا تو سلمان بہت دلیر ہوگئے کیونکہ حضرت عمروضہ سے پہلے حضرت حمزہ جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا اور بہت محبت کرنے والے تھے اور قریش میں بہت عزت کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔ایمان لے آئے تھے۔اب مکہ کے گلی کوچوں میں اسلام کا ذکر ہونے لگا۔اور آہستہ آہستہ قرآن پاک کے جو احکامات نازل ہو رہے تھے۔وومن کر نیک فطرت لوگ خاص طور پر عورتیں اور غلام متاثر ہوئے تھے۔قریش کے سرداروں نے غور کرنا شروع کیا کہ کیا کیا جائے۔اب تو زیادہ طاقت کے ذریعہ دین کی تبلیغ کو روکنا چاہیئے۔یہ تو ہر نبی کے زمانے میں ہوتا رہا ہے۔قرآن پاک میں ہے۔يَا حَسُرَةً عَلَى الْعِبَادِ : مَا يَأْتِيهِم مِّن رَّسُولٍ إِلَّا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِرُون (سورة ليس : ۳۱)