نبوت سے ہجرت تک — Page 39
۳۹ ماں۔دین کو قبول کرنا بھی انسان کی طاقت میں نہیں ہوتا۔یہ بھی خدا کے فضل اور رحمت سے ہوتا ہے۔یہ تو تھا ہی بدنصیب کیونکہ اس کی فطرت میں نیکی اور پاکیزگی نہیں تھی۔پھر اس کو اسلام کی لذت کیسے ملتی۔بچہ۔کیا کفار مسلسل السلام کے خلاف پروگرام بناتے رہتے تھے۔ماں۔جھگڑا تو ختم نہیں ہوا تھا مسئلہ تو چل رہا تھا۔یا تو را عرب مسلمان ہو جاتا۔یا پھر کفار اپنے مقاصد میں کامیاب ہو جاتے لیکن خدا تعالیٰ نے اس دنیا میں ہی جہنم کا سامان کر دیا۔کہ وہ اسلام کی ترقی دیکھ کر حسد کی آگ میں جلتے رہے۔بدقسمت تھے۔دل کی تسلی کے لئے ان کو ایک فضول بات سوجھی کہ محمد کا کوئی بیٹا نہیں ہے۔ان کا مذہب ان کی زندگی تک چلے گا۔بعد میں کون اس کو پھیلائے گا۔اس بات سے کچھ نسلی ہو جاتی۔آپس میں کہتے کہ محمد تو ابتر ہے (بے اولاد ہے) اس کا سلسلہ خود مٹ جائے گا۔اس لئے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ہ۔لیکن اُمی پیارے آقا کا واقعی کوئی بیٹا زندہ نہیں رہا۔لیکن سارے مسلمان آپ کے بیٹے ہیں۔اسلام تو آج تک زندہ ہے۔اور ہر مذہب کا مقابلہ بھی کر رہا ہے۔اس کی سچائی مسلسل پھیل رہی ہے۔ماں۔اسی لئے تو خدا تعالیٰ نے سورۃ کوثر نازل فرمائی کہ محمد کو تو ہم نے کوثر عطا کی ہے۔کوثر کا مطلب ہے ایسی نہر جس کا پانی کبھی خشک نہیں ہو گا۔یہ سلسلہ جاری رہے گا۔اور قیامت تک قائم رہے گا۔لیکن اس کے دشمن آبتر رہیں گے۔اور تاریخ سے ثابت ہے کہ دشمنوں کی نسلوں کو خدا نے مٹادیا۔اور