نبیوں کا سردار ﷺ — Page 278
۲۷۸ نبیوں کا سردار قربانیاں کی تھیں اُن کی وفات کے بعد آپ کی شادی میں جوان بیویاں آئیں لیکن اس کے باوجود آپ نے حضرت خدیجہ کے تعلق کو نہ بھلایا۔حضرت خدیجہ کی سہیلیاں جب بھی آتیں آپ اُن کے استقبال کے لئے کھڑے ہو جاتے۔لے حضرت خدیجہ کی بنی ہوئی کوئی چیز اگر آپ کے سامنے آ جاتی تو آپ کی آنکھوں میں آنسو آ جاتے۔بدر کی جنگ میں جب آپ کے ایک داماد بھی قید ہو کر آئے تو آزادی کا فدیہ ادا کرنے کے لئے کوئی مال اُن کے پاس نہیں تھا۔اُن کی بیوی یعنی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی نے جب دیکھا کہ میرے خاوند کے بچانے کے لئے اور کوئی مال نہیں تو اپنی والدہ کی آخری یادگار ایک بار اُن کے پاس تھا وہ اُنہوں نے اپنے خاوند کے فدیہ کے طور پر مدینہ بھجوادیا۔جب وہ ہار رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش ہوا تو آپ نے اُسے پہچان لیا۔آپ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے اور آپ نے صحابہ سے فرمایا۔میں آپ لوگوں کو حکم تو نہیں دیتا کیونکہ مجھے ایسا حکم دینے کا کوئی حق نہیں لیکن میں جانتا ہوں کہ یہ ہار زینب کے پاس اُس کی ماں کی آخری یادگار ہے اگر آپ خوشی سے ایسا کر سکتے ہوں تو میں سفارش کرتا ہوں کہ بیٹی اُس کی ماں کی آخری یادگار سے محروم نہ کی جائے۔صحابہ نے کہا يَا رَسُول اللہ ! ہمارے لئے اس سے زیادہ خوشی کا کیا موجب ہوسکتا ہے اور انہوں نے وہ ہار حضرت زینب کو واپس کر دیا ہے حضرت خدیجہ کی قربانی کا آپ کی طبیعت پر اتنا اثر تھا کہ آپ دوسری بیویوں کے سامنے اکثر اُن کی نیکی کا ذکر کرتے رہتے تھے۔ایک دن اسی طرح آپ حضرت عائشہ کے سامنے حضرت خدیجہ کی کوئی نیکی بیان کر رہے تھے کہ حضرت عائشہ نے چڑ کر مسلم کتاب الفضائل باب من فضائل خديجه السيرة الحلبية جلد ۲ صفحه ۲۰۵ مطبوعہ مصر ۱۹۳۵ء