نبیوں کا سردار ﷺ — Page 279
۲۷۹ نبیوں کا سردار کہا۔يَا رَسُولَ اللہ ! اب اُس بڑھیا کا ذکر جانے بھی دیں۔اللہ تعالیٰ نے اُس سے بہتر جوان اور خوبصورت عورتیں آپ کو دی ہیں۔یہ بات سن کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر رقت طاری ہوگئی اور آپ نے فرمایا۔عائشہ ! تمہیں معلوم نہیں خدیجہ نے میری کس قدر خدمت کی ہے لے اخلاق فاضلہ آپ کی طبیعت نہایت ہی سادہ تھی کسی دُکھ پر گھبراتے نہیں تھے اور کبھی کسی خواہش سے حد سے زیادہ متاثر نہیں ہوتے تھے۔سوانح میں بتایا جا چکا ہے کہ آپ کی پیدائش سے پہلے آپ کے والد اور بچپن میں ہی آپ کی والدہ فوت ہو گئی تھیں۔ابتدائی آٹھ سال آپ نے اپنے دادا کی نگرانی میں گزارے۔اس کے بعد آپ نے اپنے چچا ابوطالب کی ولایت میں پرورش پائی۔چچا کا خونی رشتہ بھی تھا اور اُن کے والد نے مرتے وقت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں خاص طور پر وصیت بھی فرمائی تھی اس لئے وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے خاص طور پر محبت بھی رکھتے تھے اور آپ کا خیال بھی رکھتے تھے لیکن چی میں نہ وہ شفقت کا مادہ تھا نہ خاندانی ذمہ داریوں کا احساس۔جب گھر میں کوئی چیز آتی تو بسا اوقات وہ اپنے بچوں کو پہلے دیتیں اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا خیال نہ رکھتیں۔ابوطالب گھر میں آتے تو بجائے اس کے کہ اپنے چھوٹے بھتیجے کو روتا ہوا یا گلہ کرتا ہوا پاتے وہ دیکھتے کہ اُن کے بچے تو کوئی چیز کھا رہے ہیں لیکن اُن کا چھوٹا سا بھتیجا کو ہ وقار بنا ایک طرف بیٹھا ہے۔چچا کی محبت اور خاندانی ذمہ داریاں اُن کے سامنے آ جاتیں وہ دوڑ کر بھتیجے کو بغل میں لے لیتے اور کہتے میرے بچے کا بھی تو خیال کرو، میرے بچے کا بھی تو بخاری کتاب المناقب باب تزويج النبی ﷺ