نبیوں کا سردار ﷺ — Page 277
۲۷۷ نبیوں کا سردار محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مقصود تو خدا تعالیٰ کی خوشنودی اور حقیقی نیکی کا حصول تھا۔آپ کو ایسی تصنع اور بناوٹی نیکیوں کی کیا ضرورت تھی۔اگر دنیا آپ کو نیک سمجھتی تو بھی اور اگر آپ کو نیک نہ بجھتی تو بھی آپ کے لئے ایک سی بات تھی۔آپ تو صرف یہ دیکھتے تھے کہ میرا خدا مجھے کیا سمجھتا ہے اور میرا اپنا نفس مجھے کیسا پاتا ہے۔خدا اور اپنے نفس کی شہادت کے بعد اگر بنی نوع انسان بھی سچی شہادت دیتے تو آپ اُن کے شکر گزار ہوتے تھے اور اگر وہ سج آنکھوں سے دیکھتے تو آپ اُن کی بینائی کی کمی پر افسوس کرتے مگر اُن کی رائے کو کوئی وقعت نہ دیتے تھے۔صلى الله رسول کریم ﷺ کا بنی نوع انسان سے معاملہ بیویوں کے حق میں آپ کا معاملہ نہایت ہی مشفقانہ اور عادلا نہ تھا۔بعض دفعہ آپ کی بیویاں آپ سے سختی بھی کر لیتی تھیں مگر آپ خاموشی سے بات کو ہنس کر ٹال دیتے تھے۔ایک دن آپ نے حضرت عائشہؓ سے کہا اے عائشہ! جب تم مجھ سے خفا ہوتی ہو تو مجھے پتہ لگ جاتا ہے کہ تم مجھ سے خفا ہو۔حضرت عائشہ نے فرمایا آپ کو کس طرح پتہ لگ جاتا ہے؟ آپ نے فرمایا جب تم مجھ سے خوش ہوتی ہو اور کوئی قسم کھانے کا معاملہ آ جائے تو تم ہمیشہ یوں کہتی ہو محمد کے رب کی قسم !بات یوں ہے اور جب تم مجھ سے ناراض ہوتی ہو اور تمہیں قسم کھانے کی ضرورت پیش آ جائے تو تم کہا کرتی ہو' ابراہیم کے رب کی قسم !ابات یوں ہے۔حضرت عائشہ یہ بات سن کو ہنس پڑیں اور آپ کی بات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ آپ بات کو ٹھیک سمجھے ہیں لے 66 حضرت خدیجہ جو آپ کی بڑی بیوی تھیں اور جنہوں نے آپ کے لئے بڑی بڑی مسلم کتاب الفضائل باب فضائل عائشة۔۔۔۔(الخ)